سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 494

سراجِ منیر — Page 54

سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ کے قریب مکفر اور مکذب جامع مسجد میں میرے مقابل پر اکٹھے ہوئے تھے ۔ اگر عنایت الہی شامل نہ ہوتی تو ایک خطرناک بلوہ بر پا ہو جاتا۔ غرض اس فتنہ کا بانی محمد حسین بٹالوی تھا اور اس کے ساتھ نذیر حسین دہلوی تھا جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اس الہام میں فرمایا جو صفحہ ۵۱۱ میں درج ہے تبت يدا أبي لهب و تب ـ ما كان له ان يدخل فيها الا خائفا يعنی دونوں ہاتھ ابی لہب کے ہلاک ہو گئے جس سے اس نے فتویٰ تکفیر لکھا اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا ۔ اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس مقدمہ میں دخل دیتا مگر ڈرتا ہوا ۔ یہ فتنہ بھی پشاور سے لے کر کلکتہ بمبئی حیدر آباد اور تمام بلا د پنجاب اور ہندوستان میں پھیل گیا۔ اور جاہل مسلمانوں نے رافضیوں کی طرح مجھ پر لعنت بھیجنا ثواب کا موجب سمجھا ۔ اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات ٹوٹ گئے اور بھائی بھائی سے اور بیٹا باپ سے علیحدہ ہو گیا۔ سلام ترک کیا گیا یہاں تک کہ ہماری جماعت میں سے کسی مردہ کا جنازہ پڑھنا بھی موجب کفر سمجھا گیا۔ تیسرا فتنہ جو تیسرے درجہ پر ہے وہ فتنہ ہے جواب لیکھرام کی موت پر کھلا کھلا نشان ظاہر ہونے کے وقت ہندوؤں سے وقوع میں آیا اور انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت تھی فتنہ کو انتہا تک پہنچایا اور قتل کے منصوبے کئے اور کر رہے ہیں اور گورنمنٹ کو اکسایا اور اکسا رہے ہیں ہیں اس فتنہ کے ساتھ چونکہ ایک ایسا کھلا کھلا نشان ہے جس سے مخالفوں کے دلوں پر زلزلہ آ گیا ہے اور فتح عظیم حاصل ہوئی ہے اور بہت سے اندھے سو جا کھے ہوتے جاتے ہیں۔ اس لئے یہ فتنہ تیسرے درجہ پر ہے۔ یہ تین فتنے ہیں جن کا براہین احمدیہ میں آج سے سترہ برس پہلے ذکر ہے۔ اب اگر بڑے سے بڑے متعصب مسلمان یا عیسائی یا ہندو کے سامنے یہ کتاب براہین احمد یہ رکھ دی جائے اور ان تینوں فتنوں کے مقامات اس کو دکھلائے جائیں اور حلفا اس سے پوچھا جائے کہ یہ تینوں فتنے واقعی طور پر وقوع میں آچکے یا نہیں اور کیا یہ پیشگوئی کے طور پر براہین احمدیہ میں لکھے گئے تھے یا نہیں اور کیا یہ واقعات ثلاثہ جو بڑے ۱۸ اپریل ۱۸۹۷ء کو صاحب ڈسٹرکٹ سپر انٹنڈنٹ پولیس کی معرفت خانہ تلاشی کرائی ۔ منہ