سراجِ منیر — Page 56
۵۸ سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ اپنی تحریروں اور چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعہ سے مخالفوں اور موافقوں میں پیش از وقت شائع کر (۵۰) دیا ہو اور اپنی عظمت میں میری پیشگوئیوں کے مساوی ہوں اس زمانہ میں دکھا وہیں جن میں الہی قوت محسوس ہو تب بھی میں جھوٹا ہو جاؤں گا اور قسم کیلئے یہ ضروری ہوگا کہ جو صاحب قسم کھانے پر آمادہ ہوں وہ قادیان میں آکر میرے رو بر وقسم کھاویں میں کسی کے پاس نہیں جاؤں گا یہ دین کا کام ہے پس جو لوگ باوجو د مولویت کی لاف کے اس میں سستی کریں تو خود کا ذب ٹھیریں گے اگر میرے جیسے شخص کو جس کا نام دجال رکھتے ہیں مغلوب کر لیں تو گویا تمام دنیا کو بدی سے چھڑائیں گے اور قسم کے وقت یہ شرط نہایت ضروری ہوگی کہ میں ان کی قسم سے پہلے پورے دو گھنٹے تک عام جلسہ میں ان پیشگوئیوں کی سچائی کے دلائل ان کے سامنے بیان کروں گا تا وہ جلدی کر کے ہلاک نہ ہو جائیں اور نیز ان پر حجت پوری ہو اور ان کا حق نہیں ہوگا کہ بجر قسم کھانے کے ایک کلمہ بھی منہ پر لائیں خاموشی سے دو گھنٹے تک میرے بیان کو سنیں گے پھر حسب نمونہ مذکور و قسم کھا کر اپنے گھروں میں جائیں گے اور یادر ہے کہ میں نے سید احمد خان صاحب کا نام منکرین کی مد میں اس لئے لکھا ہے کہ ان کو خدا کے اس الہام بلکہ وحی سے بھی انکار ہے جو خدا سے نازل ہوتی اور علم غیب کی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے چونکہ وہ بھی اب عمر کی منزل کو طے کر چکے ہیں میں نہیں چاہتا کہ وہ یورپ کے کورانہ خیالات کی پیروی کر کے اس غلطی کو قبر میں لے جائیں اب گو وہ متوجہ نہ ہوں اور اس بات کو ٹھٹھے میں اڑائیں مگر میں نے جو تبلیغ کرنی تھی وہ کر چکا ہوں میں ڈرتا ہوں کہ میں پوچھا نہ جاؤں کہ ایک بندہ گم شدہ کو تم نے کیوں تبلیغ نہ کی ۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ ہر دفع عذاب اور موت کی پیشگوئیاں کیوں کی جاتی ہیں یہ نادان نہیں جانتے کہ ہر ایک نبی انذاری پیشگوئیاں کرتا رہا ہے اگر یہ روانہیں ہے تو اس کے کیا معنے ہیں کہ مسیح موعود کے دم سے مخالف مریں گے۔ غرض یہ نو صاحب ہیں جو قسم کے لئے منتخب کئے گئے ہیں کیوں کہ ہر ایک ان میں سے ایک جماعت اپنے ساتھ رکھتا ہے پس اس کے ساتھ فیصلہ کرنے سے جماعت کا فیصلہ خود ضمناً ہو جائے گا۔ قسم کا یہی مضمون ہوگا کہ یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور پہلے