سراجِ منیر — Page 47
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۴۹ سراج منیر کھل جائے گا اور سچا پیغمبر لعنتی نہیں ہو سکتا۔ پس اس طرح پر ان کا جھوٹھا ہونا دلوں پر جم جائے گا اور ایسی ذلت کے ساتھ زندگی کا خاتمہ ہو کر پھر ان کا کوئی بھی نام نہیں لے گا۔ اسی ذلت کی موت کا بھاری غم تھا جس نے تمام رات حضرت عیسی علیہ السلام کو دعا کرنے کا جوش دیا اور معین صلیب کے وقت ایلی ايلى لما سبقتی ان کے مونہہ سے کہلایا اور نہ ایک نبی کو اپنی موت کا کیا غم ہوسکتا ہے۔ یہ بہادر قوم تو موت کے غم کو پیروں کے نیچے کچلتی ہے۔ ایسا ڈر نبی کے دل کی طرف کیوں کر منسوب کر سکیں بلکہ لعنت کے فتنہ کا ڈر تھا جو ان کے دل کو کھا گیا تھا۔ آخر اس راستباز کو خدا نے بچالیا اور براہین احمدیہ کی اس پیشگوئی میں یہ اشارہ ہے کہ یہی منصوبہ تمہارے لئے ایک قوم کرے گی چنانچہ ان دنوں میں لیکھرام کی موت کے بعد ہنود نے یہی کیا اور کر رہے ہیں لیکن انہوں نے میری تکذیب کے لئے یہ دوسرا پہلو سوچا ہے کہ اگر ممکن ہو تو اس کو بھی عید کے قریب قریب قتل کر دیں اور اس طرح پر الہی پیشگوئی کو برباد کر کے دلوں سے اسلامی عظمت کو مناد میں اور لوگوں کو اس طرف توجہ دلاویں کہ جیسا کہ لیکھرام ایک پیش از وقت پیشگوئی کے موافق قتل ہو گیا ایسا ہی یہ شخص بھی پیش از وقت ہماری پیشگوئی کے موافق قتل ہو گیا۔ پس اگر وہ خدا کا الہام ہو سکتا ہے تو ہماری بات کو بھی خدا کا الہام کہنا چاہیے۔ سو اس طرح پر دنیا میں ایک گڑ بڑ پڑ جائے گا اور لوگ ہندوؤں کے ایک مردہ کے مقابل مسلمانوں کے ایک مردہ کو دیکھ کر اس نتیجہ تک پہنچ جائیں گے کہ دونوں انسانی منصوبے ہیں اور اس طرح پر بآسانی اس شخص کا کا ذب ہونا ثابت ہو جائے گا۔ سو یہود اور ہنود تکذیب کی مدعا میں واحد ہیں صرف جدا جدا دو پہلوان کو سو جھے ۔ پس خدا نے اس وقت سے سترہ برس پہلے سمجھا دیا کہ جیسا کہ یہود اپنے ارادہ میں ناکام رہے ہنود بھی اپنے ارادہ میں نا کام رہیں گے اور صاف لفظوں میں سمجھا دیا کہ یہ منصو بہ قتل اس وقت ہوگا کہ جب ایک چمکتا ہوا نشان حملہ کے رنگ میں ظہور میں آئے گا اور اس حملہ کے بعد ایک فتنہ ہوگا اس فتنہ کے مشابہ جو مسیح کی نسبت ہوا تھا۔ اور پھر اسی الہام کے ساتھ عربی میں الہام ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا مشکلات کے پہاڑ دور کر دے گا اور یہ سب رحمان کی قوت سے ہوگا۔