سراجِ منیر — Page 48
روحانی خزائن جلد ۱۲ سراج منیر اور پھر اسی الہام کی تائید میں براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۶ میں ایک الہام ہے جس میں (۴۳) ہندوؤں اور عیسائیوں کے لئے ایک کھلے کھلے نشان کا وعدہ کیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے لم یکن الذين كفروا من اهل الكتاب والمشركين منفكين حتى تاتيهم البينة و كان كيدهم عظیما یعنی مشرک اور عیسائی بجز ایک کھلے کھلے نشان کے اپنی تکذیب سے باز آنے والے نہیں تھے اور ان کا مکر بہت بڑا تھا اور پھر فرمایا کہ اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ یہ وہی کھلا کھلا نشان ہے جس کو دوسری جگہ چمکار کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جولیکھرام کی موت کا نشان ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے نہایت صفائی سے اس نشان کو ظاہر کیا ہے کیونکہ اس پیشگوئی میں میعاد بتلائی گئی تھی۔ عید کا دوسرا دن بتلایا گیا تھا۔ اور موت بذریعہ قتل بتلائی گئی تھی اور کشفی عبارت صاف بتلاتی تھی کہ موت اتوار کو ہوگی اور رات کے وقت ہوگی ۔ سو یہ ساری باتیں اسی طرح ظہور میں آ گئیں جیسا کہ پہلے سے کہی گئی تھیں ۔ اور ہندوؤں کا سازش کا الزام اور قتل کرنے کے ارادہ کا الزام اس پیشگوئی کی صفائی پر کچھ غبار نہیں ڈال سکتا کیونکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ اس نشان کے ظہور کے وقت ایک فتنہ ہوگا اور وہ فتنہ اس فتنہ سے مشابہ ہو گا کہ جو حضرت عیسی کی نسبت یہود نے اٹھایا تھا یعنی یہ کہ گورنمنٹ کے ذریعہ سے مصلوب کروانے کی کوشش یا خود قتل کرنے کا منصوبہ کرنا۔ اور اس جگہ یادر ہے کہ جو کچھ ہندو اور ہمارے دوسرے مخالف اس پیشگوئی پر گرد وغبار ڈالنا چاہتے ہیں ایسا کبھی نہیں ہو گا کیوں کہ یہ خدا تعالی کا فعل ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا بلکہ وہ روز بروز اس کی صفائی ظاہر کرے گا اور جیسے جیسے لوگوں کو یہ پیشگوئی سمجھ آتی جائے گی ویسے ویسے اس کی طرف کھنچے جائیں گے۔ کیا اس پیشگوئی کی عظمت کے لئے یہ کافی نہیں کہ علاوہ ان تمام تصریحات کے جو اس پیشگوئی میں موجود ہیں براہین احمدیہ میں بھی سترہ برس پہلے اس واقعہ سے اس پیشگوئی کی خبر دی گئی ہے۔ پندرھویں پیشگوئی ڈپٹی عبد اللہ آتھم کی نسبت پیشگوئی ہے جو نہایت