سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 494

سراجِ منیر — Page 46

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۴۸ سراج منیر کہ یہود نے اس ارادہ سے ان کو قتل کرنا چاہا تھا کہ ان کا کا ذب ہونا ثابت کریں اور انہوں نے یہ پہلو ہاتھ میں لیا تھا کہ ہم صلیب کے ذریعہ سے اس کو قتل کریں گے اور مصلوب لعنتی ہوتا ہے اور لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان بے ایمان اور خدا سے برگشتہ اور دور اور مہجور ہو۔ اور اس طرح پر ، ان کا کا ذب ہونا ثابت ہو جائے گا۔ اور خدا نے ان کو تسلی دی کہ تو ایسی موت سے نہیں مرے گا جس سے یہ نتیجہ نکلے کہ تو لعنتی اور خدا سے دور اور مہجور ہے بلکہ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا یعنی زیادہ سے زیادہ تیرا قرب ثابت کروں گا اور یہود اپنے اس ارادہ میں نامرادر ہیں گے۔ پس لفظ رفع کے مفہوم میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی بھی ایک پیشگوئی مخفی تھی کیوں کہ جس سچائی کے زیادہ ظاہر ہونے کا وعدہ تھا وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے وقوع میں آئی۔ اور خدا تعالیٰ نے اپنے ایک سچے نبی کو بغیر شہادت کے نہ چھوڑا۔ غرض یہی پیشگوئی اس عاجز کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا تعالی کی طرف سے موجود ہے اور آج سے سترہ برس پہلے شائع ہو چکی۔ سو یہ الہام وہی شان نزول اپنے ساتھ رکھتا ہے جو حضرت مسیح کے متعلق ہونے کی حالت میں اس کے ساتھ تھی یعنی جیسا کہ اس وقت میں یہ وحی اسی غرض سے حضرت عیسی پر نازل ہوئی تھی کہ ان کو پیش از وقت خبر دی جائے کہ تیری نسبت قتل کے منصو بے ہوں گے اور میں تجھ کو بچالوں گا۔ اس غرض سے یہ الہام بھی ہے۔ اگر فرق ہے تو صرف اتنا (۲۲) ہے کہ اس وقت قتل کے منصوبے کرنے والے یہود تھے اور اب ہنود ہیں۔ اور یہود نے حضرت مسیح کی تکذیب کے لئے یہ پہلو سوچا تھا کہ ان کو مصلوب کر کے توریت کے رو سے ان کا لعنتی ہونا یہ وعدہ اس عاجز کو بھی دیا گیا کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ چنانچہ اسی آیت کو بطو ر الہام اس عاجز کے حق میں بھی نازل فرمایا ہے جس سے ہمارے علماء رفع عصری مراد لیتے ہیں اور میں دلائل سے ثابت کر چکا ہوں کہ یہ آیت میرے حق میں بھی الہام ہوئی ہے۔ تو اب کیا میری نسبت بھی یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ میں معہ جسم عنصری آسمان کی طرف اٹھایا جاؤں گا۔ اگر کہو کہ تمہارا الہام ثابت نہیں تو یہ عذر فضول ہوگا کیونکہ جس لطیف پیشگوئی پر یہ الہام مشتمل ہے وہ ظہور میں آگئی ہے پس اسی دلیل سے الہام کا سچا ہونا ثابت ہو گیا۔ منہ