سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 494

سراجِ منیر — Page xxvii

کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نور اتارنے سے‘‘ (’’الاشتہار مستیقناً بوحی اﷲ القہار‘‘ مؤرخہ ۱۴؍ جنوری ۱۸۹۷ء) ۱۸۹۷ء میں عیسائیت کے تفّوق و استیلاء اور اسلام کے زوال و انحطاط اور اس کی غربت و بے بسی کو دیکھ کر کوئی ظاہر پرست انسان یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ عیسائیت شکست کھا جائے گی اور اسلام کی فتح ہو گی۔اور یسوع مسیح جس کی الوہیت اور جس کی برتری اور فوقیت کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔اس کی معبودانہ زندگی پر موت وارد ہو گی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اﷲ تعالیٰ سے علم پا کر جو اعلان فرمایا تھا وہ آج ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔کہاں گئی برطانیہ کی وہ سلطنت جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔آج وہ ایک معمولی سی طاقت رہ گئی ہے۔کہاں گیا وہ قیصر جرمنی جو یسوع مسیح کے مذہب سے وفاداری کا اظہار کرتا تھا۔کہاں ہے وہ زار روس جسے ابن آدم کے طشت میں رکھ تاج پیش کیا جاتا تھا۔وہی روس آج عیسائیت کا اشد ترین دشمن ہے اور مذہب کو ایک مضحکہ خیز چیز خیال کرتا ہے۔اَب کہاں ہے یسوع کی وہ روحانی حکومت جس کے آگے از منۂ قدیم کی بڑی سے بڑی سلطنت بھی بے حقیقت نظر آنے لگتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مخلص اور جاں نثار مرید ہر ملک میں پہنچے۔امریکہ میں پہنچے۔یورپ میں پہنچے۔افریقہ میں پہنچے۔اور ہر جگہ دلائل اور براہین کی رو سے انہوں نے عیسائیوں کو شکست دی۔آج عیسائی خود معترف ہیں کہ عیسائیت ہر جگہ ناکام ہو رہی ہے۔چنانچہ انگلستان کے چودہ نامور پادریوں کا یہ اعتراف 'Has the Church Failed' کتاب میں شائع ہوا ہے۔دی آرچ بشپ آف ایسٹ افریقہ موسٹ ریورنڈ لینزڈ بیچرتی نے بھی ٹانگا نیکا سٹینڈرڈ مؤرخہ ۲۳؍ دسمبر ۱۹۶۱ ؁ء میں اس امر کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے۔’’دنیا کی آبادی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔اگرچہ چرچ کو نئے ممبر اب بھی مل رہے ہیں۔تاہم دنیا کی آبادی میں ان کا تناسب برابر گر رہا ہے۔چرچ کے لئے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ عیسائیت بڑی تیزی کے ساتھ تنزل کی طرف جا رہی ہے۔‘‘ ایڈوین لوئیس نے جو امریکہ کے ایک مذہبی ادارے کے مسیحی دینیات کے پروفیسر ہیں۔