سراجِ منیر — Page xxviii
درسی کتاب ’’اے مینؤل آف کرسچین بیلیفس‘‘ میں لکھا ہے:۔’’بیسویں صدی کے لوگ مسیح کو خدا ماننے کے لئے تیار نہیں‘‘ سینٹ جونز کالج آکسفورڈ کے پریذیڈنٹ سرسائرل ناروڈ لکھتے ہیں:۔’’یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ یورپ اور امریکہ کے مردوں اور عورتوں کا ایک بڑا حصّہ اب عیسائی نہیں رہا ہے اور شائد یہ کہنا بھی صحیح ہو گا کہ اُن کی اکثریت اب ایسی ہے۔‘‘ ('Has the Church Failed' P۔125) اور مسٹر لنڈن پی ہیرز اپنی کتاب ’’اسلام ان ایسٹ افریقہ‘‘ مطبوعہ ۱۹۵۴ ء میں لکھتے ہیں:۔’’موجودہ صدی کی ابتداء میں عیسائی مصنّفین اس بات کے دعویدار تھے کہ اسلام بغیر سیاسی اقتدار کے کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور اس وجہ سے افریقہ میں اسلام کا نام مٹ جائے گا۔‘‘ اِ س پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔’’اب اس دعویٰ کو ماننے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں۔اسلام کا چیلنج بدستور قائم ہے۔بلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر خطرناک صورت میں۔‘‘ ایک اَور عیسائی مصنّف ایس۔جی۔ولیم سن پروفیسر غانا یونیورسٹی کالج اپنی کتاب ’’کرائسٹ آر محمد ‘‘ میں لکھتے ہیں:۔’’غانا کے شمالی حصّے میں رومن کیتھولک کے سوا عیسائیت کے تمام اہم فرقوں نے محمدؐ کے پیرؤں کے لئے میدان خالی کر دیا ہے۔اشانٹی اور گولڈ کوسٹ کے جنوبی حصّوں میں عیسائیت آج کل ترقی کر رہی ہے لیکن جنوب کے بعض حصّوں میں خصوصاً ساحل کے ساتھ ساتھ احمدیہ جماعت کو عظیم الشان فتوحات حاصل ہو رہی ہیں۔یہ خوش کن توقع کہ گولڈ کوسٹ جلد ہی عیسائی بن جائے گا اب معرضِ خطر میں ہے اور یہ خطرہ ہمارے خیال کی وسعتوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے کیونکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک خاصی تعداد احمدیت کی طرف کھچی چلی جا رہی ہے۔اور یقیناًیہ صورت حال عیسائیت کے لئے کھلا چیلنج ہے۔تاہم یہ فیصلہ ابھی باقی ہے کہ آئندہ افریقہ میں ہلال کا غلبہ