سراجِ منیر — Page 69
روحانی خزائن جلد ۱۲ اے سراج منیر دوسرا وہ وقت آتا ہے جو دعا سے زندہ ہوں گے۔ انیسویں پیشگوئی یہ پیشگوئی جو براہین کے ص ۲۴۰ میں ہے یہ ہے ربّ ارنی کیف الموتى ربّ اغفر وارحم من السماء ربّ لا تذرني فردا و انت خير الوارثين۔ ربّ اصلح امة محمد ربّنا افتح بيننا و بين قومنا بالحق و انت خير الفاتحين۔ يريدون ان يطفئوا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون اذا جاء نصر الله والفتح وانتهى امر الزمان الينا اليس هذا بالحق ترجمه یعنی اے میرے رب مجھے دکھلا کہ تو کیونکر مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ اے میرے رب مغفرت فرما اور آسمان سے رحم کر ۔ اے میرے رب مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو خیر الوارثین ہے۔ اے میرے رب امت محمدیہ کی اصلاح کر۔ اے ہمارے رب ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کر نیوالوں سے بہتر ہے۔ یہ لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کرے گا۔ اگر چہ کا فر کراہت ہی کریں۔ جب خدا کی مدد آئے گی اور اس کی 4 کے فتح نازل ہوگی اور دلوں کا سلسلہ ہماری طرف رجوع کرے گا اور ہماری طرف آ ٹھہرے گا۔ تب کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہیں تھا۔ اس تمام الہام میں یہ پیشگوئی ہے کہ ضروری ہے کہ قوم مخالفت کرے اور اس سلسلہ کے نابود کرنے کے لئے پوری کوشش کرے اور ہرگز نہ چاہے کہ یہ سلسلہ قائم رہ سکے لیکن خدا اس سلسلہ کو ترقی دے گا یہاں تک کہ زمانہ اسی طرف الٹ آئے گا اور بعد اس کے کہ لوگوں نے اکیلا چھوڑ دیا ہوگا پھر اس طرف رجوع کریں گے ۔ اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے پوری ہوئی براہین احمدیہ کے زمانہ میں علماء کا کچھ شور و غوا نہ تھا بلکہ جو تکفیر کے فتنہ کا بانی ہے ﴿۱۲﴾ اس نے کمال ثناء وصفت سے براہین احمدیہ کا ریو یو لکھا تھا پھر ایک مدت دراز کے بعد تکفیر کا طوفان اٹھا اور ایک مدت تک اپنا زور دکھلاتا رہا اور اب پھر الہام الہی کے موافق وہ سیلاب کچھ کم ہوتا جاتا ہے اور وہ وقت آتا ہے کہ نور کی نمایاں فتح اور تاریکی کی کھلی کھلی شکست ہو۔ بیسویں پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں آتھم کی نسبت ہے جو ص ۲۴۱