سراجِ منیر — Page 70
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۷۲ سراج منیر میں ہے اور ہم اس کو مفصل لکھ چکے ہیں اور مدت ہوئی کہ آتھم صاحب اس دنیا سے کوچ کر کے اپنے ٹھکانہ پر پہنچ گئے ہیں۔ ہمارے مخالفوں کو اب اس میں تو شک نہیں کہ آتھم مر گیا ہے جیسا کہ لیکھرام مر گیا ہے اور جیسا کہ احمد بیگ مرگیا ہے لیکن اپنی نا بینائی سے کہتے ہیں کہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔ اے نالائق قوم جو شخص خدا کی وعید کے موافق مر چکا اب اس کی میعاد غیر میعاد کی بحث کرنا کیا حاجت ہے بھلا دکھلاؤ کہ اب وہ کہاں اور کس شہر میں بیٹھا ہے تم سن چکے ہو کہ اس پر تو میعاد کے اندر ہی ھاویہ کی آنچ شروع ہو گئی تھی شرط پر اس نے عمل کیا اس لئے کوئی چند روز نیم جان کی طرح بسر کئے آخر اس آگ نے اس کو نہ چھوڑا اور بھسم کر دیا۔ یہ خدا تعالیٰ کی غیبی قدرتوں کا ایک بھاری نمونہ ہے کہ آتھم کے قصہ کی سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں خبر درج کر دی گئی پہلے اس بحث کی طرف اشارہ کر دیا گیا جو تو حید اور تثلیث کے بارہ میں بمقام امرتسر ہوئی تھی اور اس کے بارہ میں فرمایا گیا کہ قل هو الله احد الله الصمد لم يلد و لم يولد و لم يكن له كفوا احد پھر عیسائیوں کے اس مکر کی خبر دی گئی جو حق پوشی کے لئے میعاد کے گذرنے کے بعد انہوں نے کیا پھر اس مکارانہ فتنہ پر اطلاع دی گئی جو عیسائیوں کی طرف سے نہایت متعصبانہ جوش کے ساتھ ظہور میں آیا اور پھر آخر صدق کے ظاہر ہونے کی بشارت دی گئی اور پھر اس الہام کے ساتھ جو ص ۲۴۱ میں ہے یعنی انا فتحنا لک فتحا مبینا فتح عظیم کی خوشخبری سنائی گئی۔ اب بتلاؤ کیا یہ انسان کا کام ہے آنکھ کھولو اور دیکھو کہ آتھم کی پیشگوئی کیسی عظیم الشان غیب کی خبریں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ اکیسویں پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین احمدیہ کے ص ۲۴۱ میں درج ہے۔ فتح الولی فتح و قربناه نجيا اشجع الناس۔ ولو كان الايمان معلقا بالثريا لناله۔ انار الله برهانه تر جمہ فتح وہی ہے جو اس ولی کی فتح ہے اور ہم نے ہم رازی کے مقام پر اس کو قرب بخشا ہے۔ تمام لوگوں سے زیادہ بہادر ہے اگر ایمان ثریا پر چلا گیا ہوتا تو یہ اس کو وہاں سے لے آتا خدا اس کے بر ہان کو روشن کرے گا۔