سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 494

سراجِ منیر — Page 68

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۷۰ سراج منیر وَذِنَّةً فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ " یعنی جنہوں نے گوسالہ پرستی کی ان پر غضب کا عذاب پڑے گا اور دنیا کی زندگی میں ان کو ذلت پہنچے گی اور اسی طرح ہم دوسرے مفتریوں کو سزا دیں گے اور یہ ایک لطیف اشارہ ان گوسالہ پرستوں کی طرف بھی ہے جو اس دوسرے گوسالہ یعنی لیکھرام کی پرستش کرنے میں ظلم اور خونریزی کے ارادوں تک پہنچ گئے خدا تعالیٰ کے علم سے کوئی شے با ہر نہیں وہ خوب جانتا تھا کہ ہندو بھی لیکھرام کی پرستش کر کے اس کو گوسالہ بنائیں گے۔ اس لئے اس نے کذالک کے لفظ سے لیکھرام کے قصہ کی طرف اشارہ کر دیا ۔ توریت خروج باب ۳۲ آیت ۳۵ سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر گوسالہ پرستی کے سبب سے موت بھیجی تھی یعنی ایک وباء ان میں پڑ گئی تھی جس سے وہ مر گئے تھے۔ اور اس عذاب کی خبر کے وقت اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ ایمان لائیں گے میں ان کو نجات دوں گا جیسا کہ فرماتا ہے۔ وَالَّذِینَ عَمِلُوا السَّيَّاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَامَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ و یعنی جنہوں نے گوسالہ پرستی کی دھن میں برے کام کئے پھر بعد اس کے تو بہ کی اور ایمان لائے تو خدا تعالیٰ ایمان کے بعد ان کے گناہ بخش دے گا اور ان پر رحم کرے گا کیونکہ وہ غفور اور رحیم ہے۔ اور لیکھرام کے مقدمہ میں آیت کریمہ کا یہ اشارہ ہے کہ جنہوں نے ناحق الہام کی تکذیب کی اور قتل کی سازشیں کیں اور گورنمنٹ کو قتل کیلئے بھڑ کا یا اور پھر بعد اس کے تو بہ کی اور ایمان لائے تو خدا ان پر رحم کرے گا۔ اسی مقام کے متعلق اس عاجز کو الہام ہوا ہے یا مسیح الخلق عدو انا یعنی اے خلقت کے لئے مسیح ہماری متعدی بیماریوں کے لئے توجہ کر اور براہین احمدیہ کے ص ۵۱۹ میں اسی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ وہ عزاسمہ فرماتا ہے انت مبارک في الدنيا والآخِرَةِ امراض الناس و برکاته ان ربک فعّال لما يريد یعنی تجھے دنیا اور آخرت میں برکت دی گئی ہے خدا کی برکتوں کے ساتھ لوگوں کی بیماریوں کی خبر لے کہ تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ دیکھو یہ کس زمانہ کی خبر میں ہیں اور نہ معلوم کس وقت پوری ہوں گی ایک وہ وقت ہے جو دعا سے مرتے ہیں اور الاعراف: ۱۵۳ الاعراف: ۱۵۴