شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 548

شحنۂِ حق — Page 440

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲۶ شحنه حق عقل کو آزمانا چاہتے ہیں کہ وہ اس ہندو کی کتاب پر کیا کیا را ئیں ظاہر کرتے ہیں ۔ اور کہاں تک اس کا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ اس صورت میں بہتوں کے اندازہ عقل و فہم وانصاف کا امتحان ہو جائے گا ۔ جس شخص نے ہماری کسی کتاب کو پڑھا ہو گا وہ اگر چاہے تو شہادت دے سکتا ہے کہ ہماری تحریریں ملمع اور سرسری ہر گز نہیں ہوا کرتیں بلکہ ایک منصف اور عقل مند حاکم کی تحقیقات سے مشابہ ہیں جو مقدمہ کی تہہ کو پہنچ کر اور ہر یک تنقیح طلب امر کا پورا پورا تصفیہ کر کے پھر حکم صادر کرتا ہے۔ اب ہم بطور نمونہ پشاوری صاحب کے خیالات میں سے دو ایک باتیں ظاہر کرتے ہیں وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۲۵ میں روحوں کے غیر مخلوق ہونے پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ نہ تو روحیں ترکیب پذیر اور نہ منقسم ہونے والی چیزیں ہیں پھر ان کی پیدائش کس طرح ہوئی۔ لہذا ثابت ہوا کہ روحیں انا دی ہیں ۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ کہاں تک اس شخص میں دلیل شناسی کا مادہ ہے اتنا نہیں جانتا کہ جو کچھ میں بیان کرتا ہوں وہ تو آریوں کی طرف سے خود ایک دعوی ہے کہ ان کا پر میشر فقط جوڑ نے جاڑنے پر قادر ہے اور جو چیزیں ترکیب پذیر یا منقسم ہو نیوالی نہیں ہیں ان کو پر میشر پیدا نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ پر میشر کا کام جوڑنا جاڑنا ہے ۔ اس سے زیادہ اسے طاقت نہیں مگر اس نے دعوئی پر کوئی دلیل پیش نہیں کرتے کہ کیوں طاقت نہیں ۔ اسی دعویٰ کو خوش عقیدگی سے لیکھرام نے بجائے دلیل پیش کر دیا ہے۔ اب لیکھر امی لیاقت کے جانچنے کیلئے یہی نمونہ کافی ہے کہ وہ ایسے دعوی کو جو اپنے مفہوم کے اثبات میں خود دلیل کا محتاج ہے دلیل سمجھ بیٹھا ہے ۷۴ گویا بیان کر رہا ہے کہ روحوں کے غیر مخلوق ہونے پر یہ دلیل ہے کہ ہم آر یہ لوگ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” سے “ زائد ہے۔(ناشر)