شحنۂِ حق — Page 441
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲۷ شحنه حق کسی بسیط اور نا قابل تقسیم چیز کو مخلوق نہیں مانتے اے بھلے مانس کیا دلیل اسی بات کا نام ہے کہ جس چیز کو آپ نہ مانیں وہی نہ ماننا دلیل سمجھا جائے پس جس شخص کو دعوئی اور دلیل میں تفریق کرنے کا مادہ نہیں کیا وہ یہ حق رکھتا ہے کہ آریوں کی طرف سے وکیل بن کر مناظرہ ومجادلہ کے میدان میں آوے اور کیا ایسے وکیل کا ساختہ پر داختہ سب آریوں کو منظور و مقبول ہوگا۔ ابھی تھوڑ از مانہ گزرا ہے کہ جب دیا نند نے یہ رائے ظاہر کی کہ میرے پر میشر کو روحوں کی خبر نہیں کہ کہاں ہیں اور کتنے ہیں تو اس پر فی الفور منشی جیون داس نے پر چہ سفیر ہند امرتسر میں چھپوایا کہ دیانند کی ایسی ایسی را ئیں ہرگز ہم قبول نہیں کریں گے وہ کچھ ہمارا رہبر نہیں حالانکہ ظاہر ہے کہ دیا نند اس شخص کی طرح نرا کاٹھ کا پتلا نہ تھا۔ ہاں جو کچھ وید میں برا بھلا لکھا ہے وہ کچھ ظاہر کر دیتا تھا اور کچھ تاویلوں کے شکنجہ پر چڑھا کر پوشیدہ کرنا چاہتا تھا جس میں وہ ناکام رہا۔ پس جبکہ باتمیز آدمیوں نے دیا نند کی باتوں کو قبول کرنا نہ چاہا تو پھر لیکھرام کی یہ ئی منطق کیوں کر قبول کریں گے اور اگر قبول بھی کر لیں تو بہر حال اُمید کی جاتی ہے کہ اس شخص کی یہ تحریریں جن کی بنا سراسر جہالت اور تعصب پر ہے آریوں کی اور بھی قلعی کھولیں گی۔ بھلا خیال کرنے کا مقام ہے کہ یہی تو آریوں کی طرف سے دعویٰ ہے کہ ارواح اور ذرہ ذرہ عالم کا خود بخود ہے۔ کیوں خود بخود ہے؟ یہی باعث کہ پر میشر بجز با ہم ترکیب دینے اور جوڑ نے جاڑنے کے کسی بسیط چیز کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اب اسی دعویٰ کو یہ لائق شخص بطور دلیل پیش کرتا ہے نہیں جانتا کہ دلیل تو وہ ہوتی ہے کہ جس کے مقدمات ایسے بدیہی الثبوت ہوں کہ جو فریقین کو ماننے پڑیں مگر کیا یہ امر متخاصمین کا مانا ہوا یا اصول موضوعہ میں سے ہے کہ بسا ئط کے پیدا کرنے پر خدا تعالیٰ قادر نہیں بلکہ یہ تو آریوں کا ہی بے دلیل اعتقاد ہے کہ جو ان کے پرمیشر