شحنۂِ حق — Page 435
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲۱ شحنه حق روحوں اور ذرہ ذرہ عالم پر محض تحکم کے رو سے قبضہ رکھتا ہے نہ کسی معقول استحقاق سے جو دلیل کے ساتھ قابل تسلیم ہو ۔ ہمارا خیال ہے کہ جس قدر علم کا زور اور بیان کی طاقت اور معلومات کی وسعت قدیم زمانہ کے آریوں میں پائی جاتی ہے اور جس دانش مندی سے اُنہوں نے ویدانت کے مسائل کو نکال کر ویدوں کی مشر کا نہ تعلیم پر پردہ ڈالنا چاہا (۷۰) ہے اور ہمہ اوست کی چادر کو پھیلا کر اگنی وایواندرسورج چاند وغیرہ کو ایک سہل طریق سے اس چادر کے نیچے لے لیا ہے یہ طریق تکلفات سے خالی اور بہت کچھ ویدوں کی حمایت کرنے والا ہے کیونکہ بانداق آدمی سمجھ سکتا ہے کہ ایک ہی طاقت عظمی ہے جو سب تعینات میں کام کر رہی ہے لیکن اور بھی زیادہ تر غور کرنے سے ثابت ہو گا کہ موجودہ ویدوں کی تعلیم ہمہ اوست کے مسائل سے بھی تطبیق نہیں کھا سکتی کیونکہ بعض مواقع میں خالق کے ایک الگ وجود کو بھی مان لیا ہے اور ٹھیک ٹھیک مخلوق پرستوں کی طرح آتش و آب و غیرہ کو الگ کا الگ دیوتا قائم کر کے اس سے مرادیں مانگی ہیں اور دیوتاؤں کی بہت سی تعریف کی ہے کوئی چھوٹا کوئی بڑا کوئی بوڑھا کوئی جوان اور ہر جگہ مخلوق کے خواص کھلے کھلے بیان کر دئیے ہیں اور پاک دلوں کو نفرت دلانے والی تعریفیں اُن دیوتاؤں کی کی ہیں اور صاف صاف اپنے بیان کو اُس حد تک پہنچا دیا ہے جس سے بہ بدا ہت سمجھ میں آجاتا ہے که یه بیان کننده اپنا مذ ہب مخلوق پرستی رکھتا ہے نہ اور کچھ ۔ اور سب سے بڑھ کر خرابی یہ ہے کہ کئی مقامات میں وید تناسخ یعنی اواگون