شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 548

شحنۂِ حق — Page 434

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲۰ شحنه حق اور نہ اُن کا کوئی حامی تو ڑ سکتا ہے تب اُس آریہ نے پوچھا کہ بھلا آپ بتلائیں کہ وہ دلائل کون سے ہیں چنانچہ وہی قطعی اور یقینی وجوہات جو رگ وید کی شرتیوں کی تشریح میں ابھی ہم لکھ چکے ہیں وہ سب اُس ہندو کو سنائے گئے تب کچھ چپ رہ کر اور سوچ سوچ کر بولا ۔ کیا سوامی جی نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا ۔ اس پر وید بھاش ان منتروں کا پیش کیا گیا کہ اگر کچھ جواب لکھا ہے تو تم ہی سنا دو پھر کیا تھا ایسا چپ ہوا کہ بے شرمی کے سارے خیلے دبے رہے اتفاقاً اردور گوید کے کھولنے سے اس منتر پر جو اشتک اوّل انو کا ۔ ۱۔ سکت ۲ میں ہی نظر جاپڑی اے عقیل منتر اور رونا ( یہ دونوں سورج کے نام ہیں ) ہمارے یگ کو کامیاب کرو تم بہت آدمیوں کے فائدہ کے لئے پیدا ہوئے ہو ۔ بہتوں کو تمہارا ہی آسرا ہے تب اس آریہ کو یہ شرقی بھی دکھلائی گئی کہ دیکھو اس میں سورج کا مخلوق ہونا قبول کر کے پھر اس سے دعا بھی مانگ لی ہے بلکہ اُس پر آسرا بھی کیا ہے پس اس شرقی کا دکھلانا اُس آریہ کے حق میں ایسا ہوا کہ جیسے کوئی مرے ہوئے سانپ کو ایک اور سونٹا مار دیتا ہے۔ یہ تمام ذلتیں آریوں کو پہنچتی ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ان رسوائیوں کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے اور نہ تو اپنے خیالات کی تائید میں اور نہ ان عمدہ دلائل کی رڈ میں جو تقریری یا تحریری طور پران کو دکھلائے جاتے ہیں کسی قسم کا ثبوت عقلی یا نقلی دے سکتے ہیں ہاں گالیاں اور دشنام دہی کا گند اُن کے دلوں میں بہت ہے پس جو کچھ ان کی تھیلی میں ہے وہی ہر ایک سائل کو پین دان کی طرح دیتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں سچ ہے معقول بات کا معقول جواب دینا اُن لوگوں کا کام نہیں جن کا پر میشر ہی تمام