شحنۂِ حق — Page 436
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲۲ شحنه حق کا قائل ہے چنانچہ رگ وید کے پہلے ہی اشتک میں کتنے منتر ایسے ہیں کہ ایک صاف بیان سے اواگون کے مسئلہ کی تعلیم کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اواگون کے ماننے سے ویدانت کا مسئلہ قائم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ویدانت والے ہر یک روح کو مخلوق سمجھتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ پر میٹر نے اپنے اختیار سے انسانی روح کو کسی حد تک طاقتیں بخشی ہیں اور آپ ہی ہر مخلوق کی حد بندی کی ہے سو یہ بیان اواگون کے مسئلہ کو باطل کرنے والا ہے کیونکہ مسئلہ تناسخ کے رو سے ہر یک مرد اور عورت اور انسان اور حیوان کی حد بندی اعمال سابقہ کی وجہ سے ہے اور سلسلہ اعمال سابقہ کا تبھی قائم اور محفوظ رہ سکتا ہے کہ جب ارواح کو غیر مخلوق قرار دیں ورنہ نہیں جیسا کہ ہر یک عقل سلیم سمجھ سکتی ہے سو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ویدوں کے رو سے تمام ارواح اور ذرہ ذرہ عالم کا غیر مخلوق ہی ہے اور جب ہر یک چیز ویدوں کے رو سے غیر مخلوق ہوئی تو وہی آفتیں وہی قباحتیں وہی خرابیاں پیش آئیں گی جن کا کسی قدر ہم ذکر کر چکے ہیں اور جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ سرمہ چشم آریہ میں لکھا ہے پھر ہم تنبیہا لکھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی سچی تو حید ہر گز تناسخ کے ساتھ جمع نہیں ا ہو سکتی جب تک آریہ لوگ تناسخ سے دست بردار نہ ہو لیں تب تک خدائے تعالی کی عظمت اور جلال پر ہرگز انہیں نظر نہیں پڑے گی منوجی کا مقدس پستک جس کو ایک طرف ہم ویدوں کا بھاش کہہ سکتے ہیں اور دوسری طرف آریوں کی سوشل لائف کی تواریخ متصور ہو سکتا ہے جس پر پنڈت دیا نند نے بھی بہت کچھ مدار رکھا ہے اور آریہ سماج کی عمارت کا ایک ستون قرار دے دیا ہے اس میں علاوہ علم