شحنۂِ حق — Page 433
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۹ شحنه حق پاس جس قدر اُن لوگوں کے گمنام خط موجود ہیں اور جو کچھ لیکھر ام پشا وری کی د تخطی تحریر میں اب تک پہنچی ہیں جن کو ہم نے بہ حفاظت لکھا ہوا ہے اس سے ایک عقلمند نتیجہ نکال سکتا ہے کہ دیا نندی مذہب نے ان کے دلوں پر کس قسم کا اثر کیا ہے ۔ اب ہم اپنے پہلے مطلب کی طرف رجوع کر کے بدعوی کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے وید ہرگز شرک سے خالی نہیں ہیں اور جس قدر ہم نے بطور نمونہ ویدوں کے منتر لکھے ہیں اسی قدر سے ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ویدوں میں بجائے تو حید کے کیا بھرا ہوا ہے لیکن افسوس کہ پھر بھی نجی اور بدفهم آریہ دیا نندی پیچ سے نکلنا نہیں چاہتے اور عقل اور انصاف دونوں کو چھوڑ کر سراسر تحکم کی راہ سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ضرور دیانند کی رائے صائب ہے اس دعوی میں چاروں طرف سے سخت ندامتیں بھی انہیں اٹھانی پڑتی ہیں مگر کچھ ایسے حیا شرم سے دور جا پڑے ہیں کہ کچھ بھی ان ندامتوں سے دردمند نہیں ہوتے ہمیں یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک آریہ نے ہمارے رو برو ذکر کیا ہے کہ سوامی جی دیا نند نے اپنے وید بھاش میں ثابت کر کے دکھلا دیا ہے کہ اگنی وایو وغیرہ پر میشر کے نام ہیں ہم نے کہا کہ تمہارے سوامی جی تو خود قبول کرتے ہیں کہ اگنی وایو سے مراد ان منتروں میں آگ اور ہوا بھی ہے دیکھو ان کا وید بهاش متعلق اشتک اوّل رگ وید (۲۹) سکت اہاں کھینچ تان کر اگنی اور وایو وغیرہ کا نام پر میشور بھی رکھتے ہیں مگر اس پر اُن کے پاس کوئی دلیل نہیں اور جو ہمارے پاس دلائل اس بات کے ہیں کہ ضرور اگنی وایو وغیرہ سے مراد آگ اور ہوا وغیرہ عناصر یا اجرام سماوی ہیں اُن کو نہ سوامی سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” رکھا ہونا چاہیے۔ (ناشر)