شحنۂِ حق — Page 432
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۸ شحنه حق بالکل کچل دیتے ہیں مگر ان کا تو جسم کچلا جاتا ہے مگر دیا نندی وجود کی رتھ نے ہندوؤں کی سمجھ اور عقل کو کچلا ہے اور جیسے کسبیاں جگن ناتھ کی مورت کے (۲۸) سامنے ناچتے ہوئے بے حیائی سے حرکتیں کرتی ہیں اور مختلف اوضاع کے ساتھ جو سراسر بے شرمی اور بے غیرتی سے صادر ہوتی ہیں اس بے جان اور بے زبان مورت کو خوش کرنا چاہتی ہیں ایسا ہی آریوں کے چھٹے ہوئے اوباش خدائے تعالیٰ کے پاک نبیوں کو گالیاں دے کر دیا نند کی روح کو اپنی دانست میں خوش کر رہے ہیں اگر چہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں پڑا ہے اور کس حالت میں ہے جس قدر آریوں نے ہمیں گندی گالیاں نکالیں اور پُر دشنام خط لکھے اور قتل کر دینے کی ہمیں دھمکیاں دیں اس کا تو ہمیں افسوس نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان کا مادہ ہی ایسا ہے لیکن خدائے تعالیٰ کے پاک نبیوں کو گالیاں دینا اور دل دکھانے والی توہین کرنا یہ طریقہ انہوں نے اچھا نہیں پکڑا ۔ ہمارے فٹ نوٹ خلیج بنگالہ میں جگن ناتھ ایک شہر ہے اور وہاں ایک مشہور مندر ہے جس میں جگن ناتھ کی مورت نصب کی ہوئی ہے ۔ مذہبی میلوں کی تقریب پر یہ مورت ایک رتھ میں رکھی جاتی ہے جو شاید پندرہ سولہ پہیوں کا ہوتا ہے اور پھر اس مورت کو نہایت مکلف پوشاک پہنا کر ایک مندر سے دوسرے مندر کو لے جاتے ہیں بڑے بڑے پنڈت اور سادھو ان میلوں میں جمع ہوتے ہیں جن کے لئے بقول ڈاکٹر برفی آرصد بازانیہ عورتوں نے اپنا وجود وقف کیا ہوا ہوتا ہے با ایں ہمہ وہ سب پنڈت اور سادھو خوش اعتقاد ایسے ہیں کہ اس رتھ کے پہیوں کے نیچے مرنے کو تیار ہوتے ہیں اور جو شخص اپنے تئیں رتھے کے پہیوں کے نیچے ڈال دے اور ان سے کچل جا کر اپنی جان گنوائے ایسے شخص کو ہندوؤں میں نہایت ہی مہاتما اور مقدس سمجھا جاتا ہے ۔ منہ ۔