شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 548

شحنۂِ حق — Page 431

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۷ شحنه حق چهارم عقل خدا داد کو دخل دینے کے وقت معلوم ہوگا کہ جن قرائن اور علامات اور صریح بیان سے ویدوں میں تعلیم مخلوق پرستی کی ثابت ہوتی ہے وہ سب دلائل قطعی اور یقینی ہیں ۔ چنانچہ جا بجا ہر یک منتر میں پنڈت دیا نند نے بھی اپنے وید بھاش میں مان لیا ہے کہ حقیقت میں اگنی سے مراد آگ اور وایو سے مراد ہوا ہے۔ مگر اس کے دوسرے معنے بھی ہیں چنانچہ رگ وید اشتک اول کے دوسرے سکت کی پہلی تین منتر میں جو وایو کے مہما برن میں ہیں ان میں بھی پنڈت دیا نند نے اپنے وید بھاش میں قبول کر لیا ہے کہ اگنی اور وایو حقیقت میں آگ اور ہوا کے نام ہیں مگر یہ پرمیشور کے نام بھی ہیں اب دیکھنا چاہیے کہ جن باتوں کا تمام دوسرے پنڈت دعویٰ کرتے ہیں ان کو آپ بھی اقرار ہے لیکن جو نیا خیال انہوں نے ظاہر کیا ہے دوسرے پنڈت اس سے سراسر منکر ہیں اور دیا نند نے کوئی ایسے وجوہات بھی پیش نہیں کئے جو ایک ذرہ اطمینان کے لائق ہوں ۔ ہم نے اس کے وید بھاش کو غور سے سنا ہے اور ان فاضل برہموں کی تحریریں بھی دیکھی ہیں جو دیا نندی خیالات کے استیصال کے لئے متوجہ ہیں۔ ہم بخدا سچ سچ کہتے ہیں کہ اس کے ہر یک فقرہ سے ہم کو ایک تحکم کی بد بو آتی ہے جو ایک موٹی سمجھ اور نا لیاقتی سے ملا ہو اور ایک دہقانی اور گنواری تقریر میں بیان کیا گیا ہے اور میں ان خوش عقیدوں کو جنہوں نے اپنی فطرتی عقل کو بے کار چھوڑ کر اپنا دھرم اور ایمان دیانند کے حوالے کر دیا ہے اس روحانی موت میں ان لوگوں کی موت سے مشابہ پاتا ہوں جو اپنی سادہ لوحی سے اپنے تئیں جگن ناتھ کی رتھ کے پہیوں کے نیچے ڈال دیتے ہیں جو ان کو