شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 548

شحنۂِ حق — Page 430

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۶ شحنه حق ان کے خیال میں اس میں مرنا سُرگ میں پہنچا دیتا ہے اب دیکھنا چاہیئے کہ یہ وہی شہر ہے جس میں ہزاروں پنڈت ابتدا سے ہوتے چلے آئے ہیں اور اب بھی ہیں گویا یہ شہر ایک وید مجسم ہے لیکن ہر کو چہ وگلی میں اس میل کچیل کی طرح جو اس شہر کی گلیوں میں پائی جاتی ہے جابجا دیویوں اور دیوتاؤں کی مورتیں پرستش کے لئے نصب کی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ پس جب وید نے اسی شہر پر جو آر یہ علماء کا ایک معدن شمار کیا جاتا ہے یہ اثر ڈالا نہ آج سے بلکہ ہزار ہا سال سے تو اور اور جگہوں پر وہ کون سا نیک اثر ڈالے گا۔ سوم یہ کہ اگر ویدوں کا تحت اللفظ ترجمہ کر کے ( خواہ بڑے بڑے متعصب آریہ اپنے ہاتھ سے کریں ) کسی اور ملک میں بھیجا جائے مثلاً انگلستان میں یا امریکہ میں یا روس میں تو کوئی شخص ان منتروں میں تو حید نہیں سمجھ سکتا چنانچہ اس کا تو تجربہ بھی ہو چکا۔ اب اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ ویدوں میں گو بظاہر مشر کا نہ تعلیم ہے مگر ۲۷ در پردہ اس کے اندر تو حید چھپی ہوئی ہے تو ایسی چیستوں اور پہیلیوں سے خلق اللہ کو کیا فائدہ ہوگا اور پنڈتوں کے ہزاروں طرح کے موجودہ شرکوں پر کون سا نیک اثر پڑے گا۔ کیا ایسا کمزور اور نا تو ان بیان اس سخت طوفان کو فرو کر سکتا ہے جو خود ہندوؤں کے بڑے بڑے اچارج اس کا موجب ہورہے ہیں اور بڑے زور سے ادعا کرتے ہیں کہ و ہی مسائل صحیح ہیں جو ہم نے سمجھے ہیں اور وہی وید کے موافق ہیں ۔ اگر کوئی پاک خیال پنڈت ہونرا بنارسی ٹھگ نہ ہو تو وہ شہادت دے سکتا ہے کہ اب وید آپ اصلاح پانے کے لائق ہیں نہ یہ کہ حالت موجودہ کی اصلاح کر سکتے ہیں ۔