شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 548

شحنۂِ حق — Page 421

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۷ شحنه حق خودسوچ لیں کہ کہاں تک اس سونے میں خالصیت بھری ہوئی ہے ۔ (۴) ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری کانشنس اور نور قلب سے جو ہم کو عطا کیا گیا ہے وید کی تعلیمیں مطابقت نہیں رکھتی ہیں ۔ ہمارا کانشنس ہرگز ان باتوں کو قبول نہیں کرتا کہ جس پر ہماری ساری زندگی کا سہارا ہے اور جو ہماری ہر یک تربیت کا سر چشمہ ہے وہ ایسا کمزور ہو کہ نہ تو از خود پیدا کر سکے نہ کوئی رحمت پہنچا سکے نہ ہمیشہ کے لئے نجات دے سکے نہ تو بہ واستغفار سے ہمارا گناہ معاف کر سکے۔ نہ ہماری کوششوں سے ہمیں حقیقی عرفان تک پہنچا سکے غرض کچھ بھی نہ کر سکے ۔ تو پھر ایسے کا ہونا کیا اور نہ ہونا کیا ۔ اگر یہی پر میشر ہے تو حقیقت عالم بالا معلوم شد ۔ ویدوں کی تعلیم پرستش اس سے بھی عمدہ تر ہے۔ کسی قوم کو منصف مقرر کر کے دیکھ لو کوئی شخص اس بات کا قائل نہیں ہوگا کہ وید مشر کا نہ تعلیم سے خالی ہیں ہم نے ویدوں پر بہت غور کی اور جہاں تک طاقت بشری ہے ان کے معلوم کرنے کے لئے زور لگایا آخر ہم پر صاف کھل گیا کہ چاروں وید پرانے مخلوق پرستوں کے خیالات کا مجموعہ ہیں اور اس زمانہ کی بناوٹ ہیں کہ جب کہ بچے قادر تک لوگوں کو رسائی نہیں ہوئی تھی پس وہ لوگ جو علم الہیات میں پست نگاہ رکھتے تھے انہوں نے زمانہ کا الٹ پھیر اور (1) حوادث ارضی و سماوی میں اجرام سماوی و عناصر کا بہت کچھ دخل دیکھ کر یہی اپنے دلوں میں سمجھ لیا کہ اگر کوئی رب العالمین و مد بر عالم ہے تو یہی چیزیں ہیں ان کے سوا اگر کچھ ہے بھی تو وہ دخل در عالم سے معطل و بے کار ہے۔ سو در حقیقت نفی صفات الہی کرنا اور خدا تعالیٰ کو قادرا نہ تصرف سے معطل سمجھنا یہی اصل موجب دیوتا پرستی اور تناسخ کا ہے۔ کیونکہ جب کہ خدا تعالیٰ اپنے مدبرانہ کاموں سے معطل خیال