شحنۂِ حق — Page 420
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۶ شحنه حق ان کے آرام کی چیزیں دی گئی ہیں وہ انہیں کے گذشتہ کرموں کا پھل ہے اور ان چیزوں کو ظہور میں لانے والے اصل میں انہیں کے اعمال ہیں گویا زمین آسمان چاند سورج ستارے عناصر نباتات جمادات وغیرہ جن میں انسانی وجود کے لئے فوائد بھرے ہوئے ہیں وہ آریوں کے کسی پہلے نیک کرم سے وجود پذیر ہوئے ہیں اور اگر آریوں کے اعمال صالحہ نہ ہوتے تو نہ زمین ہوتی نہ آسمان ہوتا نہ چاند نہ سورج نہ ستارے نہ نباتات نہ جمادات غرض کچھ بھی نہ ہوتا ۔ اب اے ناظرین بتلا دیں کہ کیا اس سے بیہودہ تر دنیا میں کوئی اور مذہب بھی ہوگا اور نیز ایک طرف تو یہ لوگ گائے بیل گھوڑے وغیرہ حیوانوں کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ کسی سابق بد عملی سے یہ پیدا ہوئے ہیں اور ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے نیک عملوں نے ان کو گائے بیل وغیرہ بنایا ہے کیونکہ یہ ہمارے آرام پانے کی چیزیں ہیں ۔ سو د یکھنا چاہیئے کہ ان کے خیالات میں کس قدر تناقض ہے ایک بات دوسری بات کو رڈ کرتی ہے ۔ پھر سوچنا چاہیئے کہ کیا یہ بات قرین قیاس ہے کہ سورج و چاند و زمین وغیرہ انسان کی پیدائش کے بعد اور اس کے نیک عملوں سے پیچھے پیدا ہوئے ہیں اور کیا یہ درست ہوسکتا ہے کہ جس قدر یہ نعمتیں ہیں ایک نالائق انسان اسی قدر عمل بھی کرتا ہے اور جیسے دام دیتا ہے اُسی قدر وہاں سے جنس بھی ملتی ہے آج کل اگر ایک چوہڑی یا سا ہنسی کو بھی یہ صاف صاف باتیں سمجھائی جائیں تو اس کو سمجھنے میں ذرہ بھی دقت نہ ہو ۔ مگر یہ لوگ اب تک نہیں سمجھتے اور بڑے حیا سے ابھی تک مونہہ پر یہی بات ہے کہ اور سب کتابیں ملمع اور کھوٹی ہیں ۔ اور وید کھرا سونا ہے ۔سو اے منصفین ہم نے یہ وید کا سونا آپ لوگوں کے آگے رکھ دیا ہے اب آپ لوگ