شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 548

شحنۂِ حق — Page 422

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۸ شحنه حق کیا گیا تو حاجت براری کے لئے دیو تے گھڑے گئے اور تقدیری تغیرات اور انقلابات کو گزشتہ عملوں کا نتیجہ ٹھہرایا گیا ۔ سو اس ایک ہی خیال سے یہ دونوں خرابیاں پیدا ہو گئیں یعنی اواگون اور دیوتا پرستی ۔ آریہ سماج والے جنہوں نے ویدوں کی اصلاح کی اپنے ذمہ سر پرستی لی ہے بڑی جانکا ہی سے پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں اور خواہ نخواہ کوشش کر رہے ہیں کہ ویدوں کو مشر کا نہ تعلیم سے پاک ٹھہرائیں مگر ان کے حق میں کیا خوب ہوتا کہ چاروں وید پردہ زمین سے ایسے نیست و نابود ہو جاتے کہ کوئی مخالف ان کی اندرونی آلائش دیکھنے کا موقعہ نہ پا سکتا۔ رہے وید کے علوم وفنون تو ان کی نسبت تو ہم کچھ بیان کر چکے ہیں اور کچھ اور بھی بیان ہوگا ۔ بالآخر یہ بھی ظاہر کرنا قرین مصلحت ہے کہ ہم نے اس آریہ راقم رسالہ کی نسبت قادیان کے ہندوؤں سے سنا ہے کہ اس کی زبان پر سرستی چڑھی ہوئی ہے۔ سو اب ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا اس سرستی کے اتارنے کے لئے اسی قدر ہماری تحریر کافی ہے یا کسی اور تدارک کی بھی ضرورت ہے۔