شحنۂِ حق — Page 419
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۵ شحنه حق اس پر خالی اور اجمالی طور پر وہی فیض ہو جائے ۔ غرض تمام نقوش روحانی میں مرشد کا ایک نمونہ ٹھہر جائے یہی علت غائی کتاب الہی اور رسول کی ہے تا ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہو جائیں لیکن اس عرفان سے وید ہندوؤں کو جواب دے رہا ہے۔ ویدوں کے رو سے یہ بات غیر ممکن ہے کہ کوئی شخص وید کی پیروی کر کے وہ سچا گیان اور عرفان پاسکے جو بقول اُن کے رشیوں کو حاصل ہوا تھا یعنی محض قیل و قال سے ترقی کر کے براہ راست خدا تعالیٰ سے مکالمہ و مخاطبہ نصیب ہو جائے حالانکہ وید ہی اس بات کے قائل ہیں کہ بجز سچے گیان کے مکتی نہیں ہو سکتی ۔ پس اس سے ثابت ہے کہ خود وید کے اقرار سے بجز چار رشیوں کے اور کسی ہند و کومکتی نصیب ہی نہیں ۔ غرض ویدوں میں کتاب الہی ہونے کی یہ علامت پائی نہیں جاتی کہ حقیقی عرفان کا دروازہ نہ صرف چار مجہول الاسم شخص پر بلکہ تمام دنیا پر کھولتے ہوں پس جب کہ جس مطلب کے لئے کتاب الہی آیا کرتی ہے وہ مطلب ہی ویدوں سے حاصل نہیں ہو سکتا اور گنہ سے پاک ہونا صرف ہزاروں جونوں کی سزا پر موقوف ہے تو وید کس مرض کی دوا ہیں ۔ (۳) ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فعل سے ویدوں کی ہدایت کچھ مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ زمین و آسمان پر نظر ڈالنے سے صریح ہمیں نظر آتا ہے کہ خداوند تعالیٰ نہایت ہی کریم ہے اور سچ مچ جیسا کہ اس نے فرمایا ہے وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا ے اس کی نعمتیں شمار سے خارج ہیں مگر ویدوں کی ابراهيم : ۳۵ ہے کہ ایک ذرہ بطور عطیہ محض کے عطا نہیں ہوا بلکہ جو کچھ انسانوں کو