شحنۂِ حق — Page 380
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۶ شحنه حق امور ملکی و مدنی و منز لی اور خود فرد فرد کے ذاتی ہیں ان میں سے کسی میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ ہر وقت اور ہر جگہ ان کے رازوں کا افشا کرنا مصلحت ہو یا عدم افشا کا نام مکر اور فریب رکھا جائے ۔ خدا تعالیٰ نے دل و زبان وغیرہ قومی انسان کو عطا فرما کر ان کے مناسب استعمال کے لئے اسے ذمہ وار بنایا ہے اور ہر ایک بات کی عمدگی اور خوبی دکھلانے کے لئے جدا جدا موقع اور محل اور وقت اس بات کے مقرر کئے ہیں کوئی خلق خواہ کیسا ہی عمدہ ہو مگر جب وہ بے محل اور بے وقت صادر ہوگا تو ساری خوبی اور خوبصورتی اس کی خاک میں مل جائے گی اور کوئی مفید چیز اپنے فوائد ہرگز ظاہر نہیں کرے گی جب تک وہ ٹھیک ٹھیک اپنے وقت پر اپنے استعمال میں نہ لائی جائے ۔ خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت اور نوع انسان کی حقیقی بھلائی وہی شخص بجالا سکتا ہے جو وقت شناس ہو اور نہ نہیں ۔ مثلاً ایک شخص گو راست گو ہے مگر اپنی راستی کو حکمت کے ساتھ ملا کر استعمال نہیں کرتا بلکہ لاٹھی کی طرح مارتا ہے اور بے تمیزی سے ایک شریف خصلت کو بے محل کام میں لاتا ہے تو وہ ایک حکیم منش کے نزدیک ہرگز قابل تعریف نہیں ٹھہرتا ۔ ایسے کو جاہل نیک بخت (۲۹) کہیں گے نہ دانا نیک بخت ۔ اگر کوئی اندھے کو اندھا اندھا کر کے پکارے اور پھر کسی کے منع کرنے پر یہ کہے کہ میاں کیا میں جھوٹ بولتا ہوں تو اسے یہی کہا جائے گا کہ بے شک تو راست گو ہے مگر احمق یا شریر کہ جس راستی کے اظہار کی تجھے ضرورت ہی نہیں اس کو واجب الاظہار سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کے دل کو دکھا تا ہے ۔ اسی طرح اخلاقی امور کا تمام عقد جواہر اسی ایک ہی رشتہ سے