شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 548

شحنۂِ حق — Page 379

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۵ شحنه حق پکتی رہتی ہے اس کا انجام ہر گز بہتر نہیں ہوگا ۔ کیا یہ بات قرین قیاس نہیں کہ جس نے آج یہ واردات کی کل اس سے بڑھ کر کوئی چاند چڑھائے گا ۔ کیا انہیں کرتوتوں سے آریہ سماج روشن ہو جائے گی ۔ کیا چوروں کے سودن کے بعد ایک دن کسی سادھ کا نہیں آئے گا ۔ اسی واردات کو دیکھئے کہ لالہ بشن داس نے اپنی شرافت سے صبر کیا اور مقدمہ کو عدالت تک نہ پہنچایا ورنہ سکھ صاحب اور اس کے رفیقوں کو بیگا نہ صندوق میں ہاتھ ڈالنے کا ابھی مزہ (۲) معلوم ہو جاتا ۔ ہماری دانست میں یہ مقدمہ اب بھی دائر ہونے کے لائق ہے کیونکہ گو لالہ بشن داس کے زیور وغیرہ کا کچھ نقصان نہیں ہوا۔ خیر گیر تھی مگر خطوط کی چوری بھی حسب قانون مروجہ انگریزی ایک چوری ہے ۔ جس کی سزا میں شاید تین سال تک قید ہے مسروقہ خطوں کے پیش ہونے سے ثابت ہوسکتا ہے کہ ان خطوط میں کوئی بھی ایسی تحریر نہیں تھی جو اس سکھ یا اس کے دوسرے یاروں سے کچھ تعلق رکھتی ہو بلکہ وہ صرف ایک حسابی معاملہ کے خطوط تھے جو فقط لا لہ بشن داس کی ذات سے تعلق رکھتے تھے اور اس کی رنج کے مطالب پر مشتمل تھے جن کا بے اجازت کھولنا بھی ایک جرم تھا اب انصاف کی جگہ ہے کہ جن لوگوں کے اپنے ذاتی چال چلن کا یہ حال ہو کہ چوری تک حلال ہے وہ ہم پر کوئی اعتراض کرنے کے لئے کوشش کریں اور اعتراض بھی کیا عمدہ که بشن و اس کو اس کے امر متعلق کے مخفی رکھنے کی تعلیم کی حالانکہ کسی عقل مند کی یہ رائے نہیں ہو سکتی کہ انسان اپنے تمام اسرار کو عام طور پر فاش اور شائع کر دیا کرے تب اس کا نام راست گو ہو گا ورنہ نہیں۔ غور سے دیکھنا چاہیے کہ جس قدر سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” خیر گزری ہونا چاہیے۔(ناشر)