شحنۂِ حق — Page 381
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۷ شحنه حق بستہ ہے کہ ہر ایک خلق اپنے وقت پر صادر ہو۔ درشتی ۔ نرمی ۔ عفو۔ انتقام ۔غضب۔ حلم - منع ۔ عطا سب وابستہ باوقات ہیں اور ان کی خوبصورتی اور بہتری بھی تبھی ظہور میں آتی ہے کہ وہ عین اپنے محل پر استعمال کئے جائیں۔ یہی قرآنی فلاسفی ہے جس پر عقل سلیم شہادت دیتی ہے۔ غرض جو کچھ اس اعتراض میں نیک بخت آریوں نے ہم پر طعن کرنا چاہا ہے وہ سراسر ان کی نادانی اور کارستانی ہے وہ آج کل بہتان اور افترا کے پتھروں سے دوسروں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں یا درکھنا چاہیے کہ یہ پتھر انہیں پر پڑیں گے نہ دوسروں پر ۔ کوئی چیز ایسی چھپی ہوئی نہیں جو آخر ظاہر نہ ہو۔ پس اگر ہم درحقیقت فریب پر ہیں تو یہی فریب ہمیں ہلاک کرے گا لیکن اگر ہم راستی پر ہیں اور وہ جو ہمارے دل کو دیکھ رہا ہے وہ اس میں کچھ فریب نہیں پاتا تو اگر آریوں کے پہلے اور آریوں کے پچھلے اور آریوں کے زندے اور آریوں کے مردے بلکہ تمام اولین آخرین مخالف ہمارے نابود کرنے کے لئے جمع ہو جائیں تو ہمیں ہرگز نابود نہیں کر سکتے ۔ جب تک ہمارے ہاتھ سے وہ کام انجام پذیر نہ ہو جائے جس کے لئے اللہ جل شانہ نے ہمیں مامور کیا ہے۔سو آریوں کے افترا اور بہتان اور قتل کرنے کی دھمکیاں سب بیچی اور بے اثر ہیں جن سے ہم ڈرتے نہیں۔ اگر ان کا حسد سے یہ خیال ہو کہ لوگ ان کی طرف کیوں رجوع کرتے ہیں ان کو کسی تدبیر سے بند کرنا چاہیے تو انہیں سمجھنا چاہیے کہ لوگ در حقیقت کچھ چیز ہی نہیں اور نہ ہماری لوگوں پر نظر ہے