شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 502

شہادة القرآن — Page 384

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۸۲ شهادة القرآن اس تمام تمہید سے مدعا یہ ہے کہ گورنمنٹ کو یادر ہے کہ ہم تہ دل سے اس کے شکر گزار ہیں اور ہمہ تن اس کی خیر خواہی میں مصروف ہیں اور میں نے سُنا ہے کہ ایک شخص ساکن بٹالہ ضلع گورداسپورہ نے جو اپنے تئیں مولوی ابو سعید محمد حسین کر کے مشہور کرتا ہے اس اختلاف رائے کے سبب سے جو بعض جزئی مسائل میں وہ اس عاجز کے ساتھ رکھتا ہے میری نسبت اپنی سخت دشمنی کی وجہ سے اور سراسر بے انصافی اور درندگی کے جوش سے خلاف واقعہ باتیں گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے لکھتا ہے اور میرے خاندان کی مخلصانہ اور خیر خواہی کے تعلق کو جو گورنمنٹ سے ہے غلط بیان کرتا اور چھپاتا اور اپنے افتراؤں کے نیچے دبانا چاہتا ہے اور محض عداوت اور حسد ذاتی کی تحریک سے اس بات پر زور دیتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ یہ عاجز گورنمنٹ کا سچا خیر خواہ نہیں ہے۔ یہ نادان ذرہ خیال نہیں کرتا کہ جھوٹے منصوبوں اور بے بنیا د افتر اؤں میں ہرگز وہ قوت پیدا نہیں ہوتی کہ جو سچ میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ سچ کی طاقت کا ایک کرشمہ جھوٹ کے پہاڑ کو ذرہ ذرہ کر کے دکھا دیتا ہے اور نیز جو جھوٹ میں ہٹ دھرمی اور بے ایمانی کی عفونت ہوتی ہے وہ حکام کی خدا داد قوت شامہ سے چھپ بھی نہیں سکتی ۔ اور اگر چہ یہ تمام افترا اس کے اس قسم کے تھے کہ ازالہ حیثیت عرفی کی وجہ سے عدالت کے ذریعہ سے اس کی ان تمام چالاکیوں کا تدارک کرایا جائے لیکن بالفعل یہی مناسب سمجھا گیا کہ معزز گورنمنٹ کو اس شخص کے ان افتراؤں سے اطلاع دیجائے اور امید ہے کہ دانا گورنمنٹ ادنی توجہ سے اس کے ان بہتانات کو بخوبی سمجھ جائے گی اور وزن کرلے گی اور جانچ لے گی اور ایسے مفسد کا تدارک نہایت ضروری ہے تا آئندہ کوئی خبیث نفس ایسی حرکات ناشائستہ کی طرف حجرات نہ کرے۔ ہماری دانا اور عادل گورنمنٹ اس بات سے بے خبر نہیں ہے کہ ہر یک مخبر کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ جس معاملہ میں وہ قطعی طور پر گورنمنٹ کو اطلاع دیوے اور اپنی طرف سے قطعی رائے ظاہر کرے تو اس سے پہلے وہ اس معاملہ کو کما حقہ تحقیق بھی کر لیوے ۔ اب عادل گورنمنٹ اگر چاہے تو ایک خیر خواہ خاندان کے لئے جس کو اس نے اپنی خوشنودی کی اعلیٰ درجہ کی اسناد دے رکھی ہے یہ تکلیف اُٹھا سکتی ہے کہ اس دروغ گو مخبر کو جو بذریعہ اپنے رسالہ اشاعت کے خلاف واقعہ خبریں اس