شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 502

شہادة القرآن — Page 383

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۸۱ شهادة القرآن خدا تعالیٰ ہمیں صاف تعلیم دیتا ہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کر و اس کے شکر گزار اور فرمانبردار بنے رہو سوا اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں اس صورت میں ہم سے زیادہ بد دیانت کون ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کے قانون اور شریعت کو ہم نے چھوڑ دیا ۔ اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا مذہبی تعصب اُن کے عدل اور انصاف پر غالب آگیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جہالت سے ایک ایسے خونخوار مہدی کے انتظار میں ہیں کہ گویا وہ زمین کو مخالفوں کے خون سے سرخ کر دے گا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی آسمان سے اسی غرض سے اتریں گے کہ جو مہدی کے ہاتھ سے یہود و نصاری زندہ رہ گئے ہیں اُن کے خون سے بھی زمین پر ایک دریا بہا دیں لیکن یہ خیالات بعض مسلمانوں مثلاً شیخ محمد حسین بٹالوی اور اس کی جماعت کے سراسر غلط اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ۔ یہ نادان خون پسند ہیں اور محبت اور خیر خواہی خلق اللہ کی سرمو ان میں نہیں لیکن ہمار ا سچا اور صحیح مذہب جس پر ہمیں یہ لوگ کافر ٹھہراتے ہیں یہ ہے کہ مہدی کے نام پر آنے والا کوئی نہیں ہاں مسیح موعود آگیا مگر کوئی تلوار نہیں چلے گی اور امن سے اور سچائی سے اور محبت سے زمانہ تو حید کی طرف ایک پلٹا کھائے گا اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام چندر پوجا جاوے گا نہ کرشن اور نہ حضرت مسیح علیہ السلام ۔ اور کچے پرستارا اپنے حقیقی خدا کی طرف رُخ کر لیں گے اور یادر ہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ ہم با امن زندگی بسر کریں اُس کے حقوق کو نگاہ رکھنا فی الواقعہ خدا کے حقوق ادا کرنا ہے اور جب ہم ایسے بادشاہ کی دلی صدق سے اطاعت کرتے ہیں تو گویا اُس وقت عبادت کر رہے ہیں۔ کیا اسلام کی تعلیم ہوسکتی ہے کہ ہم اپنے محسن سے بدی کریں اور جو ہمیں ٹھنڈے سایہ میں جگہ دے اس پر آگ برساویں اور جو ہمیں روٹی دے اُسے پتھر ماریں ایسے انسان سے اور کون زیادہ بد ذات ہوگا کہ جو احسان کرنے والے کے ساتھ بدی کا خیال بھی دل میں لاوے۔