شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 502

شہادة القرآن — Page 385

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۸۳ شهادة القرآن عاجز کی نسبت گورنمنٹ کو پہنچاتا ہے طلب کر کے اس بات کا ثبوت مانگے کہ اس نے کن و ھے دلائل اور وجوہ سے اِس عاجز کو گورنمنٹ انگریزی کا مفسد قرار دیا ہے اور اگر وہ دلائل شافیہ بیان نہ کر سکے تو پھر جس قدر مناسب ہو قانونی سزا کا اس کو کچھ مزہ چکھا دیوے کہ یہ ایک عین مصلحت اور ایک بچے خیر خواہ خاندان کی اس میں دلجوئی متصور ہے اگر چہ ایسے جوش بعض مخالفین مذہب کی تحریرات میں بھی پائے جاتے ہیں جیسے پادری عمادالدین وغیرہ وغیرہ ۔ مگر وہ بباعث نا واقفیت اور جوش مذہب اور لا علاج تعصب کے کسی قدر معذور بھی ہیں اور حق بات کو منہ سے نہیں نکال سکتے مگر یہ شیخ بٹالوی در حقیقت حد سے گزر گیا ہے۔ عادل گورنمنٹ اس شخص کی تحریرات ۹۲ ۱۸۹۳ ء کے ساتھ ان تحریرات کو بھی دیکھے جو ۱۸۸۴ء میں اس شخص کے اشاعۃ السنۃ میں اس عاجز کی نسبت موجود ہیں تا معلوم ہو کہ یہ شخص منافق اور حق پوش اور دورنگی اختیار کرنے والا ہے اگر چہ ہم جانتے ہیں کہ زیرک اور دانا اور عادل اور وسیع واقفیت والی گورنمنٹ کے آگے ایسی مکاریاں چل نہیں سکتیں اور یہ عمیق اندلیش گورنمنٹ دور سے ہوا کا رخ دیکھ لیتی ہے اور متعصبانہ مخبریوں کو حقیر اور شرمناک حسد یقین کر جاتی ہے لیکن تاہم گورنمنٹ پر کوئی وحی تو نازل نہیں ہوتی اور ممکن ہے کہ چند شریروں کے یک زبان ہونے سے ایسا دھوکا لگے جو انسان کو لگ سکتا ہے اس لئے ہماری طرف سے کسی قدر عرض حال ضروری تھا۔ اب ہم گورنمنٹ کے ملاحظہ کے لئے ۱۸۸۴ء کے اشاعۃ السنہ یعنی نمبر ۶ جلدے سے جو براهین احمدیہ پر ریویو ہے کسی قدر عبارت اس شخص کے رسالہ مذکورہ کی گورنمنٹ کے ملاحظہ کے لئے نقل کرتے ہیں تا دانا گورنمنٹ خود ملاحظہ فرما لیوے کہ اس شخص نے اس عاجز کی نسبت پہلے کیا لکھا تھا اور اب کیا لکھتا ہے۔ اور وہ عبارت یہ ہے