شہادة القرآن — Page 364
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۶۲ شهادة القرآن معاشرت اور تجارت اور ترقی کا شتکاری غرض ہر یک بات میں ہر یک قوم پر فائق اور بلند ہو جائیں گی یہی معنے ہیں مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ کے کیونکہ حدب با تحریک زمین بلند کو کہتے ہیں اور نسل کے معنے میں سبقت لے جانا اور دوڑنا۔ یعنی ہر ایک قوم سے ہر ایک بات میں جو شرف اور بلندی کی طرف منسوب ہو سکتی ہے سبقت لے جائیں گے اور یہی بھاری علامت اس آخری قوم کی ہے جس کا نام یا جوج ماجوج ہے اور یہی علامت پادریوں کے اس گروہ پُرفتن کی ہے جس کا نام دجال معہود ہے اور چونکہ حدب زمین بلند کو کہتے ہیں اس سے یہ اشارہ ہے کہ تمام زمینی بلندیاں ان کو نصیب ہوں گی مگر آسمانی بلندی سے بے نصیب ہوں گئے اور اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ یہی قوم یا جوج و ماجوج باعتبار اپنے ملکی عروج کے یا جوج ماجوج سے موسوم ہے اور اسی قوم میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے ضلالت کے پھیلانے میں اپنی کوششیں انتہا کو پہنچائی ہیں اور دجال اکبر سے موسوم ہو گئے اور خدا تعالیٰ نے ضلالت کے عروج کے ذکر کے وقت فرمایا کہ اس وقت نفخ صور ہو گا اور تمام فرقے ایک ہی جگہ پر اکٹھے کئے جائیں گے اور بعد ان آیات کے جو جہنم کا ذکر ہے وہ قرآن کریم کے محاورہ کے بموجب الگ بیان ہے کیونکہ قرآن کریم کا یہ عام محاورہ ہے کہ بعض اوقات دنیا کے کسی واقعہ کا ذکر کرتے کرتے کسی مناسبت کی وجہ سے آخرت کا ذکر ساتھ ہی کیا جاتا ہے جیسا که قرآن شریف کو غور سے دیکھنے والے اس متواتر محاورہ سے بے خبر نہیں ہیں۔ تیسرا شق ہماری ان مباحث کا یہ تھا کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ وہ مسیح موعود جس کا قرآن اور احادیث میں مختلف پیرایوں میں ذکر ہے وہ یہی عاجز ہے۔ سو میرے خیال میں اس شق کے دلائل لکھنے میں زیادہ طول دینے کی حاجت نہیں اس بات کو ہم نے اس رسالہ میں ثابت کر دیا ہے کہ ایک شخص کا اس امت میں سے مسیح علیہ السلام کے نام پر آنا ضروری ہے۔ کیوں ضروری ہے تین وجہ سے۔ اول یہ کہ مماثلت تامہ کاملہ ہمارے نی صلی اللہ علیہ سلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جو آیت كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا سے مفہوم ہوتی ہے اس بات کو چاہتی ہے۔ الانبياء: ۹۷ المزمل: ١٦