شہادة القرآن — Page 365
۳۶۳ روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن وجہ یہ کہ آیت اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً صاف بتلا رہی ہے کہ جیسے حضرت موسیٰ اپنی امت کی نیکی بدی پر شاہد تھے ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی شاہد ہیں مگر یہ شہادت دوامی طور پر بجزر صورت استخلاف کے حضرت موسیٰ کے لئے ممکن نہیں ہوئی یعنی خدا تعالیٰ نے اسی اتمام حجت کی غرض سے حضرت موسیٰ کے لئے چودہ سو برس تک خلیفوں کا سلسلہ مقرر کیا جو در حقیقت توریت کے خادم اور حضرت موسیٰ کی شریعت کی تائید کے لیے آتے تھے تا خدا تعالیٰ بذریعہ ان خلیفوں کے حضرت موسیٰ کی شہادت کے سلسلہ کو کامل کر دیوے اور وہ اس لائق ٹھہریں کہ قیامت کو تمام بنی اسرائیل کی نسبت خدا تعالیٰ کے سامنے شہادت دے سکیں۔ ایسا ہی اللہ جل شانه (۶۸) نے اسلامی امت کے کل لوگوں کے لئے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ اور فرمایا وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف تنیس برس تک اپنی امت میں رہے پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی امت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں یہی واقعی جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دئیے اور خلیفوں کی شہادت بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت متصور ہوئی اور اس طرح پر مضمون آیت اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُم تبریک پہلو سے درست ہو گیا۔ غرض شہادت دائمی کا عقیدہ جو نص قرآنی سے بتواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائمی کو قبول کیا جائے ۔ اور یہ امر ہمارے مدعا کو ثابت کرنے والا ہے فتد تر۔ دوسری مماثلت تامہ کاملہ استخلاف محمدی کی استخلاف موسوی سے مسیح موعود کا آنا ضروری ٹھہراتی ہے جیسا کہ آیت مندرجہ ذیل سے مفہوم ہوتا ہے یعنی آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ صاف بتلا رہی ہے کہ ایک مجد د حضرت مسیح کے نام پر چودھویں صدی میں آنا ضروری ہے کیوں کہ امر المزمل: ١٦ المزمل : ١٦ النساء :۴۲ المزمل: ١٦ د النور : ۵۶