شہادة القرآن — Page 363
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۶۱ شهادة القرآن جیسا کہ یہودیوں کا تخت سلطنت رومیہ نے یعنی محض بادشاہوں کی بد چلنی اور نالیاقتی کی وجہ سے۔ انگریزوں کا اس ملک گیری میں کچھ قصور نہیں تا ان پر تلوار اٹھائی جاوے بلکہ از ماست که بر ماست کی مثال اس جگہ صادق آتی ہے اسی وجہ سے اس صدی کا مجد د حضرت مسیح کے رنگ میں آیا اور بوجہ قوی مشابہت کے مسیح موعود کہلایا اور یہ نام کچھ بناوٹی نہیں بلکہ حالات موجودہ کی مطابقت کی وجہ سے اسی نام کی ضرورت پڑی۔ اور یادر ہے کہ قرآن کریم میں ایک جگہ رمل کے لفظ کے ساتھ بھی مسیح موعود کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ سوال کہ ان ہی الفاظ کے ساتھ جو احادیث میں آئے ہیں کیوں قرآن میں ذکر نہیں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تا پڑھنے والوں کو دھوکا نہ لگ جاوے کہ مسیح موعود سے مراد در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام ہی ہیں جن پر انجیل نازل ہوئی تھی اور ایسا ہی دجال سے کوئی خاص مفسد مراد ہے سوخدا تعالیٰ نے فرقان حمید میں ان تمام شبہات کو دور کر دیا۔ اس طرح پر کہ اول نہایت تصریح اور توضیح سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی خبر دی جیسا کہ آیت فلش (11) تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ سے ظاہر ہے اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا بھی ظاہر کر دیا جیسا کہ فرمایا وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ اور پھر یہودیوں کی بہت سی نافرمانیاں جابجاذ کر کر کے متواتر طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آخری حالت عام مسلمانوں اور مسلمانوں کے علماء کی یہی ہو جائے گی اور پھر ذکر کیا کہ آخری زمانہ میں غلبہ نصاریٰ کا ہوگا اور ان کے ہاتھ سے طرح طرح کے فساد پھیلیں گے اور ہر طرف سے امواج فتن اٹھیں گی اور وہ ہر یک بلندی سے دوڑیں گی یعنی ہر یک طور سے وہ اپنی قوت اور اپنا عروج اور اپنی بلندی دکھلائیں گی۔ ظاہری طاقت اور سلطنت میں بھی ان کی بلندی ہوگی کہ اور حکومتیں اور ریاستیں ان کے مقابل پر کمزور ہو جائیں گی اور علوم وفنون میں بھی ان کو بلندی حاصل ہوگی کہ طرح طرح کے علوم و فنون ایجاد کریں گے اور نادر اور عجیب صنعتیں نکالیں گے اور مکاید اور تدابیر اور حسن انتظام میں بھی بلندی ہوگی اور دنیوی مہمات میں اور ان کے حصول کیلئے ان کی ہمتیں بھی بلند ہوگی اور اشاعت مذہب کی جد و جہد اور کوشش میں بھی وہ سب سے فائق اور بلند ہوں گے اور ایسا ہی تدابیر المائدة : ١١٨ الاحزاب: ۴۱