سَت بچن — Page 270
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷۰ ست بچن ۱۳۹ انسان کا عمدہ کمال یہی ہے کہ وہ کھانے پینے اور ہر ایک قسم کی عیاشی اور دولت اور حکومت کی لذات میں عمر بسر کرے کیونکہ اس قسم کی لذات میں دوسرے جانور بھی اس کے شریک ہیں بلکہ انسان کا کمال ان قوتوں کے کمال پر موقوف ہے جو اُس میں اور اُس کے غیر میں مابہ الامتیاز ہیں اور انسان کے دین کا کمال یہ ہے کہ اُس کی ہر ایک قوت میں دین کی چمک نظر آ وے اور ہر یک فطرتی طاقت اس کی ایک دین کا چشمہ ہو جاوے اور وہ قوتیں یہ ہیں۔ عقل ۔ عفت - شجاعت ۔ عدل - رقم - صبر - استقامت ۔ شکر محبت ۔ خوف - طمع ۔ حزن غم ۔ ایثار سخاوت - ہمت۔ حیا۔ سخط - غضب - اعراض - رضا - شفقت - تذلل - حمد ڈم ۔ امانت ۔ دیانت ۔ صدق - عفو۔ انتقام ۔ کرم ۔ جود ۔ مواسات۔ ذکر ۔ تصور ۔ مروت۔ غیرت ۔ شوق ۔ ہمدردی - حلم - شدت فہم ۔ فراست - تدبیر ۔ تقوی۔ فصاحت۔ بلاغت عمل جوارح - ذوق ۔ آنس ۔ دعا۔ نطق ۔ ارادہ ۔ تواضع ۔ رفق۔ مدارات۔ تحنن۔وفا۔ حسن عہد ۔ صلہ رحم - وقار - خشوع خضوع ۔ زہد - غبطہ ۔ ایجاد۔ معاونت طلب تمدن - تسلیم ۔ شہادت صدق۔ رضا بقضا۔ احسان ۔ تو کل ۔ اعتماد متحمل۔ ایفاء عہد ۔ تبتل ۔ اطاعت۔ موافقت ۔ مخالطت عشق ۔ فتا نظری - تطہر ۔ فکر ۔ حفظ ادراک ۔ بغض۔ عداوت ۔ حسرت۔ اخلاص۔ علم الیقین ۔ عین الیقین ۔ حق الیقین ۔ جہد ۔ تو بہ۔ ندامت۔ استغفار ۔ بذل روح۔ ایمان توحید - رویا۔ کشف سمع۔ بصر - خطرات ۔ یہ تمام قوتیں انسان میں ہی پائی جاتی ہیں اور کوئی دوسرا جاندار ان میں شریک نہیں۔ اور اگر چہ بظاہر ایک ایسا شخص جس کو تدبر اور تفکر کرنے کی عادت نہیں کہہ سکتا ہے کہ ان قوتوں میں کئی ایک ایسی قوتیں بھی ہیں جن میں بعض دوسرے جانور بھی شریک ہیں مثلاً محبت یا خوف یا عداوت مگر پوری پوری غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ شراکت صرف صورت میں ہے نہ کہ حقیقت میں۔ انسانی محبت اور خوف اور عداوت ۔ انسانی عقل اور معرفت اور تجربہ کا ایک نتیجہ ہے پھر جبکہ انسانی عقل اور معرفت اور تجربہ دوسرے حیوانات کو حاصل نہیں ہو سکتا تو پھر اُس کا نتیجہ کیونکر حاصل ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسانی محبت اور خوف اور عداوت کا کوئی انتہا نہیں انسانی محبت رفته رفته عشق تک پہنچ جاتی