سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 550

سَت بچن — Page 269

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۹ ست بچن ستی اور کوشش کے نہیں ملتا اور وہ خوب جانتے تھے کہ خدا ہر ایک جان سے اُسی جان کی قربانی (۱۳۵) چاہتا ہے نہ کسی غیر کی زید کی خود کشی بکر کے کام نہیں آتی بات یہی سچ ہے کہ خدا کو وہی پاتے ہیں جو آپ خدا کے ہو جاتے ہیں جو لوگ ہر ایک ناپاکی کے دروازے اپنے پر بند کرتے ہیں انہیں پر اس پاک کے دروازے کھولے جاتے ہیں اسلام کیا چیز ہے جبکہ ہم اس ثبوت کے دینے سے فارغ ہو چکے کہ در حقیقت بابا نانک صاحب اُن پاک طبع بزرگوں میں سے تھے جن کے دلوں پر اسلام کا نور چمکا تو اب اس سوال کا جواب باقی رہا کہ اسلام کیا چیز ہے سو واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو دنیا میں پیدا کر کے اُس کی پیدائش کے مناسب حال اُس میں ایک کمال رکھا ہے جو اُس کے وجود کی علت غائی ہے اور ہر یک چیز کی واقعی قدر و قیمت اُسی صورت میں ہوتی ہے کہ جب وہ چیز اپنے کمال تک پہنچ جائے مثلاً بیلوں میں کلبہ رانی اور آب پاشی اور بار برداری کا ایک کمال ہے۔ اور گھوڑوں میں انسانوں کی سواری کے نیچے ان کی منشا کے موافق کام دینا ایک کمال ہے اور اگر چہ ان کمالات تک پہنچنا ان جانوروں کی استعداد میں داخل ہے مگر تا ہم کاشت کاروں اور چابک سواروں کی تعلیم سے یہ کمالات اُن کے ظہور میں آتے ہیں کیونکہ وہ لوگ ریاضت اور تعلیم دینے سے ایسی طرز سے ان جبلی استعدادوں کو اُن جانوروں میں پیدا کر دیتے ہیں جو ان کے اپنی منشا کے موافق ہوں پس اس قاعدہ کے رو سے ماننا پڑتا ہے کہ انسان بھی کسی کمال کے حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے کیونکہ جبکہ دنیا کی کسی چیز کا وجود عبث اور بے کار نہیں تو پھر انسان جیسا ایک نادر الخلقت جاندار جس میں بہت سی عمدہ اور بے مثل قو تیں پائی جاتی ہیں کیونکر اپنی خلقت کی رو سے محض بے فائدہ اور نکما ٹھہر سکتا ہے لیکن یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ