سَت بچن — Page 271
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷۱ ست بچن ہے۔ یہاں تک کہ وہ محبت انسان کے دل میں اس قدر گھر کر جاتی ہے کہ اُس کے دل کو چیر کر (۱۳۷) اندر چلی جاتی ہے اور کبھی اُس کو دیوانہ سا بنا دیتی ہے اور نہ صرف محبوب تک ہی محدود رہتی ہے بلکہ انسان اپنے محبوب کے دوستوں سے بھی محبت کرتا ہے اور اُس شہر سے بھی محبت کرتا ہے جس میں وہ رہتا ہے اور ان اوضاع اور اطوار سے بھی محبت کرتا ہے جو محبوب میں پائے جاتے ہیں اور اُس ملک سے بھی محبت کرتا ہے جہاں محبوب رہتا ہے ایسا ہی انسانی عداوت بھی صرف ایک شخص تک محدود نہیں رہتی اور بعض اوقات پشتوں تک اُس کا اثر باقی رہتا ہے ایسا ہی انسانی خوف بھی دور دراز نتیجہ سے پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ آخرت کا خوف بھی دامنگیر ہو جاتا ہے لہذا دوسرے حیوانات کی قوتیں انسانی قوتوں کے منبع اور سر چشمہ میں سے ہر گز نہیں ہیں بلکہ وہ ایک طبیعی خواص ہیں جو بے اختیار ان سے ظہور میں آتے ہیں اور جو کچھ انسان کو دیا گیا ہے وہ انسان ہی کے ساتھ خاص ہے۔ اب جاننا چاہئے کہ جس قدر انسان کو قو تیں دی گئی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اُن کو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اپنے محل پر خرچ کرنا اور ہر یک قوت کا خدا تعالیٰ کی مرضی اور رضا کے راہ میں جنبش اور سکون کرنا بھی وہ حالت ہے جس کا قرآن شریف کی رو سے اسلام نام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اسلام کی یہ تعریف فرماتا ہے ۔ بَلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ * لِلهِ وَهُوَ مُحْسِن کے یعنی انسان کا اپنی ذات کو اپنے تمام قومی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دینا اور پھر اپنی معرفت کو احسان کی حد تک پہنچا دینا یعنی ایسا پر وہ غفلت درمیان سے اٹھانا کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یہی اسلام ہے پس ایک شخص کو مسلمان اُس وقت نوٹ وجہ کے اصل معنی لغت کی رو سے منہ کے ہیں چونکہ انسان منہ سے شناخت کیا جاتا ہے اور کروڑ با انسانوں میں مابہ الامتیاز مونہہ سے قائم ہوتا ہے اس لئے اس آیت میں منہ سے مراد استعارہ کے طور پر انسان کی ذات اور اُس کی قو تیں ہیں جن کی رو سے وہ دوسرے جانوروں سے امتیاز رکھتا ہے گویا وہ قوتیں اس کی انسانیت کا مونہہ ہے۔ منہ ل البقرة: ١١٣