سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 550

سَت بچن — Page 220

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۰ ست بچن کی طرف سے ہوتا تو وہ اپنا نام ان شعروں میں شاعر نہ رکھتے پس جبکہ نانک صاحب کا یہ اپنا ہی کلام ہوا اور دوسری طرف اُن کا یہ اقرار ہے کہ بغیر پیروی ست گور کے حکم یعنی خدا تعالی کی کلام کے کوئی انسان نجات نہیں پاسکتا پس اب یہ سوال بالطبع ہوتا ہے کہ باوا صاحب نے پر میشر کی رضا حاصل کرنے کیلئے کس کتاب الہی کی پیروی کی اور اپنے سکھوں کو کس کتاب الہامی کی ہدایت دی اس سوال کا جواب ہم اس رسالہ میں بخوبی دے چکے ہیں کہ باوا صاحب قرآن شریف کی پیروی کرتے رہے اور اسی کی پیروی کی اُنہوں نے نصیحت کی۔ اور اگر کوئی انسان ان تمام باتوں سے قطع نظر کر کے باوا صاحب کے ان عقائد پر نظر نور ڈالے جو گرنتھ میں اُن کی طرف سے منقول ہیں اور اُن کے اشعار میں پائے جاتے ہیں تو بہت جلد یقین کر لے گا کہ ان عقیدوں کا پتہ بجز اسلام کے اور کسی دین میں نہیں ملتا۔ پس یہ بھی ایک پختہ دلیل اس بات پر ہے کہ باوا صاحب نے اسلامی عقائد ہی قبول کئے اور انہیں کو اپنا عقیدہ ٹھہرا لیا تھا پھر ہم ایسے عقیدہ والے کو اگر مسلمان نہ کہیں تو ہمیں بتلاؤ کہ اور کس مذہب کی طرف اُس کو منسوب کریں چنانچہ اس وقت چند شعر باوا صاحب کے بطور نمونہ کے اس جگہ لکھے جاتے ہیں ان کو سکھ صاحب غور سے پڑھیں کہ یہ عقیدے کس مذہب کے ہیں۔ منجملہ اُن کے یہ شعر ہے۔ ہر بن جیو جل بل جاؤ میں آپنا گر پوچھ دیکھیا اور نا ہیں تھاؤ یعنی اے جاندار و خدا کے سوا جل جاؤ گے میں نے اپنے مرشد سے پوچھ لیا ہے اور کوئی جگہ نہیں اب واضح ہو کہ یہ اس آیت قرآنی کا ترجمہ ہے وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدین یعنی جو لوگ نافرمان اور بدکار ہیں اور نفس اور ہوا کے تابع ہیں وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں جلیں گے اور اسی کے مطابق ایک دوسری آیت ہے اور وہ یہ ہے۔ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ یعنی اپنے رب کو بہت ہی یاد کرو تا دوزخ کی آگ سے نجات پاؤ۔ اب ظاہر ہے کہ نافرمانی کی حالت میں ل الانفطار : ۱۶،۱۵ الانفال : ۴۶