سَت بچن — Page 221
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۱ ست بچن آگ میں جلنا ہندوؤں کا مذہب نہیں بلکہ اُن کا مذہب تو اوا گون اور جونوں میں پڑنا ہے اور 92 عیسائیوں کے مذہب میں بھی یہ تعلیم نہیں کہ خدا سے سچی محبت کر کے انسان دوزخ سے بچ جاتا ہے کیونکہ اُن کے مذہب میں مدار نجات حضرت مسیح کی خود کشی پر ایمان لانا ہے سو یہ محض قرآنی تعلیم ہے جو باوا صاحب نے بیان کی ۔ قرآن ہی یہ تعلیم دیتا ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَاهَا یعنی جہنم کی آگ سے وہ بچے گا جو اپنے تئیں نفس پرستی اور تمام نافرمانیوں سے پاک کرے گا۔ اور پھر ایک اور شعر با واصاحب کا ہے اور وہ یہ ہے کیتیاں تیریاں قدرتیں کے وڈ تیری رات کیسے تیرے جیا جنت صفت کریں دن رات یعنی کس قدر تیری قدرتیں ہیں اور کس قدر تیری بخشش اور عطا ہے اور کس قدر تیری مخلوق ارواح اور اجسام ہیں جو دن رات تیری تعریف کرتے ہیں یہ شعر بھی قرآن شریف کی آیات کا ترجمہ ہے کیونکہ اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ إنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ " وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ یعنی خدا وہ قادر ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں وہ نہایت بزرگ اور صاحب عظمت ہے اور اُس کی نعمت اور بخشش اس قدر ہے کہ اگر تم اُس کو گننا چا ہو تو یہ تمہاری طاقت سے باہر ہے اور کوئی چیز نہیں جو خدا کی حمد و ثنا میں مشغول نہیں ہر یک چیز اُس کے ذکر میں لگی ہوئی ہے۔ اب دیکھو باوا صاحب کا یہ شعر انہیں آیات کا ترجمہ ہے ۔ لیکن یہ شعر وید کے عقیدہ کے صریح برخلاف ہے کیونکہ وید کی رو سے پرمیشر کی عطا اور بخشش کچھ بھی چیز نہیں سب کچھ اپنے عملوں کا پھل ہے اور وید اس بات کا بھی قائل نہیں کہ آگ اور پانی اور ہوا وغیرہ خدا تعالیٰ کی صفت و ثنا ئیں کر رہے ہیں ۔ بلکہ وید تو ان چیزوں کو خود پرمیشر ہی قرار دیتا ہے اور اگر یہ کہو کہ یہ نام اگر چہ مخلوق کے ہیں مگر پر میشر کے بھی یہ نام ہیں تو اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ جیسا کہ قرآن بیان کرتا ہے کہ چاند سورج ستارے پانی آگ مٹی ہوا سب خدا کی مخلوق ہے اور اسی کی تعریف کر رہے ہیں اور ان چیزوں الشمس: ۱۰ ٢ البقرة : ۱۱۰ س البقرة : ۲۵۶ ابراهیم : ۳۵ ۵ بنی اسرائیل: ۴۵