سَت بچن — Page 219
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۹ ست بچن اس لئے اکثر جناب الہی میں رو رو کر گذشتہ زندگی کے بارہ میں بہت عذر معذرت کرتے تھے ۹۵ اور اسی آخری حصہ عمر میں انہوں نے دو حج کئے اور دو برس تک مکہ اور مدینہ میں رہے اور صلحائے اسلام کے روضوں پر چلے گئے اور پرانی زندگی کا بالکل چولہ اُتار دیا اور نئی زندگی کا نشان دہ چولہ پہن لیا جس کی ہر یک طرف میں لا الہ الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوا اب تک موجود ہے اور اُن کا خاتمہ بہت عمدہ ہوا اور مجمع کثیر کے ساتھ مسلمانوں نے اُن پر نماز جنازہ پڑھی۔ انا لله وانا اليه راجعون۔ سکھ صاحبان اس بات پر بھی غور کریں کہ باوانا نک صاحب کلام الہی کے قائل تھے اور جابجا گرنتھ میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ خدا کی ہدایت اور خدا کی کلام کے سوا کوئی شخص اُس کی رہ کو نہیں پا سکتا۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔ جیہی توں مت دے تیبی کو پاوے مدھ آپے بھاوے تیویں چلا دے یعنی جسے تو نصیحت دے ویسے کوئی تجھے پاسکتا ہے تجھے جو اچھا لگا وہی کام تو چلاتا ہے۔ اور پھر فرماتے ہیں حکمی آیا حکم نہ ہو مجھے حکم سوارن ہارا یعنی انسان حکم سے آیا اور حکم نہیں پہچانتا اور خدا کے حکم سے ہی انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور ایسے شعر صدہا ہیں اور کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہام اور کلام کی پیروی کرنی چاہئے تب راہ ملے گی لیکن باوا صاحب نے کسی جگہ یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ گرنتھ کے اشعار جو میرے منہ سے نکلتے ہیں الہامی ہیں یا خدا کا کلام ہے۔ بلکہ اپنا نام شاعر رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں دیکھو صفحہ ۹۶۳ ساس ماس سب جیو تمہا راتوں میں کھرا پیارا نانک شاعر اینو کہت ہے بچے پروردگارا یعنی سانس اور گوشت اور جان تمہاری طرف سے ہیں اور تو مجھے بہت پیارا ہے نانک شاعراسی طرح کہتا ہے اے سچے پروردگار ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ کلام نا نک صاحب کا خدا تعالیٰ