سَت بچن — Page 188
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸۸ اختبار خالصہ بہادر نمبر ۶ مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء ست بچن اس اخبار کے اڈیٹر صاحب کو یہ بات نہایت مستبعد معلوم ہوئی ہے کہ باوا نا نک صاحب اہل اسلام میں سے تھے اس لئے وہ نہایت سادگی سے فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ بادا صاحب نہ ہندومت کے پابند تھے اور نہ مسلمان تھے بلکہ صرف واحد خدا پر اُن کا یقین تھا۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اڈیٹر صاحب کی اس تقریر کا خلاصہ یہی ہے کہ باوا صاحب نہ تو وید کو پر میشر کی طرف سے جانتے تھے اور نہ قرآن شریف کو ہی منجانب اللہ تسلیم کرتے تھے اور ان دونوں کتابوں میں سے کسی کا بھی الہامی ہونا قبول نہیں کرتے تھے لیکن وید کی نسبت تو یہ قول اڈیٹر صاحب کا بے شک صحیح ہے کیونکہ اگر باوا صاحب وید کے پابند ہوتے تو اپنے شہدوں میں بار بار یہ اقرار نہ کرتے کہ خدا ارواح اور اجسام کا خالق ہے اور نجات جاودانی ہے اور خدا تو بہ اور عاجزی کرنے کے وقت گناہ بخش دیتا ہے اور الہام کا دروازہ بند نہیں ہے کیونکہ یہ سب باتیں وید کے اصول کے مخالف ہیں اور باوا صاحب نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ چاروں ویدوں کو کہانی یعنی محض یاوہ گوئی قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ چاروں وید عارفوں کی راہ سے بے خبر ہیں۔سو باداصاحب کی ان تمام باتوں سے بلاشبہ یقینی طور پر کھل گیا ہے کہ باوا صاحب نے ہندو مذہب کو چھوڑ دیا تھا اور ہندوؤں کے وید اور اُن کے شاستروں سے سخت بیزار ہو گئے تھے مگر یہ بات صحیح نہیں ہے کہ باوا صاحب ہندو مذہب کو چھوڑ کر پھر بالکل لا مذہب ہی رہے کیا با وا صاحب اس قدر بھی نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خدا کہ جس نے نوع انسان کو اُس کی جسمانی محافظت کے لئے سلاطین کی قہری حکومتوں کے نیچے داخل کر دیا۔ اُس نے روحانی بلاؤں سے بچانے کے لئے جو انسان کی فطرت کو لگی ہوئی ہیں کوئی قانون اپنی طرف سے ضرور بھیجا ہوگا اڈیٹر صاحب فرماتے ہیں کہ باوا صاحب واحد خدا پر یقین رکھتے تھے مگر سوال یہ ہے کہ یہ یقین اُن کو کیونکر اور کس راہ سے حاصل ہوا اگر کہو کہ صرف عقل اور فہم سے سو واضح ہو کہ یہ بات ہزارہا