سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 550

سَت بچن — Page 189

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸۹ ست بچن صادقوں اور عارفوں کی شہادتوں سے ثابت ہو چکی ہے خدا تعالیٰ کی شناخت کے لئے عقل نا کافی ۶۵۶ ہے دنیا میں دنیوی علوم بھی تعلیم کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتے رہے ہیں اور اگر مثلاً ایک کروڑ شیر خوار بچہ کو بھی کسی تہ خانہ میں تعلیم سے دور رکھ کر پرورش کیا جاوے تو قطع نظر اس سے کہ وہ بچے علوم طبیعی و طبابت و هیئت وغیر ہ خود بخود سیکھ لیں کلام کرنے سے بھی عاجز رہ جائیں گے اور گنگوں کی طرح ہوں گے اور اُن میں سے ایک بھی خود بخود پڑھا لکھا نہیں نکلے گا۔ پھر جبکہ دنیوی علوم بلکہ علم زبان بھی بغیر تعلیم اور سکھلانے کے نہیں آسکتے تو اُس خدا کا خود بخود پتہ کیونکر لگے جس کا وجود نہایت لطیف اور ایک ذرہ سے بھی دقیق تر اور غیب در غیب اور نہاں در نہاں ہے اس لئے یہ گمان نہایت سادہ لوحی کا خیال ہے کہ وہ عاجز انسان جو صد با تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے وہ اُس ذات بیچون اور بچکون اور وراء الوراء اور نہایت پوشیدہ اور الطف اور ادق کو خود بخود دریافت کرے اور اس سے زیادہ کوئی شرک بھی نہیں کہ انسان جو ایک مرے ہوئے کیڑے کی مانند ہے یہ پر تکبر دعوی کرے کہ میں خود بغیر امداد اُس کی چراغ ہدایت کے اُس کو دیکھ سکتا ہوں بلکہ قدیم سے یہ سنت اللہ ہے کہ جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے وہ آپ اپنے برگزیدہ بندوں پر اپنا موجود ہونا ظاہر کرتا رہا ہے اور بغیر ذریعہ خدا کے کوئی خدا تک پہنچ نہیں سکا اور وہی شخص اُس کی ہستی پر پورا یقین لا سکا جس کو خود اس قادر مقتدر ذو الجلال نے انا الموجود کی آواز سے تسلی بخشی اور یا وہ شخص جو ایسی آواز سننے والے کے ساتھ محبت کے پیوند سے یک دل و یکجان و یکرنگ ہو گیا سو دنیا میں یہ دو ہی طریق ہیں جو خدا تعالیٰ کے قدیم قانون قدرت میں پائے جاتے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے ابتداء سے یہی چاہا کہ اُس کی مخلوقات یعنی نباتات جمادات حیوانات یہاں تک کہ اجرام علوی میں بھی تفاوت مراتب پایا جائے اور بعض مفیض اور بعض مستفیض ہوں اس لئے اُس نے نوع انسان میں بھی یہی قانون رکھا اور اسی لحاظ سے دو طبقہ کے انسان پیدا کئے ۔ اول وہ جو اعلیٰ استعداد کے لوگ ہیں جن کو آفتاب کی طرح بلا واسطہ ذاتی روشنی عطا کی گئی ہے ۔ دوسرے وہ جو درجہ دوم کے آدمی ہیں جو اُس آفتاب کے واسطہ سے نور حاصل کرتے ہیں اور خود بخود حاصل نہیں کر سکتے ان دونوں طبقوں کے لئے آفتاب اور ماہتاب نہایت عمدہ نمونے ہیں جس کی طرف قرآن شریف میں ان لفظوں میں