سَت بچن — Page 160
روحانی خزائن جلد ۱۰ 17۔ ست بچن اور (۲۰) قدرت کے ہاتھ سے چولے پر لکھا ہوا تھا اور ایک بادشاہ نے چاہا کہ وہ آسمانی چولا با وا صاحب سے چھین لے مگر وہ چھین نہ سکا اور اس چولہ کی برکت سے باوا صاحب سے بڑی بڑی کرامات ظاہر ہو ئیں ۔ اب فرمائیے کہ انگد کے بیان کے مخالف اور کونسی معتبر کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے ذرہ اُس کو پیش تو کرو اور یا درکھو کہ باوا صاحب سچے مسلمان تھے اور وید کو اپنے صاف بیان سے گمراہی کی کتاب ٹھہر اچکے تھے اور وہ بابرکت چولا اُن کے اسلام کا گواہ تھا۔ پھر اب کیونکر اُس کھلے کھلے سچ پر تاریکی کا پردہ ڈال دیا جاوے جو شخص اوسط درجہ کے ثبوت سے انکار کرے اُس کا نام متعصب ہے رجو شخص کھلے کھلے سچ سے منکر ہو بیٹھے اُس کا نام بے حیا اور بے شرم ہے مگر مجھے ہرگز امید نہیں کہ سکھ صاحبوں کی طرف سے جو باوا صاحب سے کچی محبت رکھتے ہیں ایسے حق پوشی کے کلمات شائع ہوں یہ تو سب کچھ آریوں کے حصہ میں آ گیا جنہوں نے ہٹ دھرمی کو اپنا ورثہ بنالیا ہے باوا صاحب تو ہمیشہ فتح یاب تھے کتنے چولے اُنہوں نے اکٹھے کئے تھے حیف ہے ان لوگوں کی سمجھ پر جواب تک حقیقت سے غافل ہیں چاہئے کہ ذرہ دو دن حرج کر کے ڈیرہ ٹانک میں چلے جائیں اور چولہ صاحب کی بچشم خود زیارت کریں تا معلوم ہو کہ جس چیز کو حقیر سمجھا جاتا ہے کیا اُس کی ایسی ہی تعظیم ہوتی ہے۔ اگر کہو کہ تعظیم اس لئے ہے کہ باوا صاحب نے اُس کو پہنا تھا اور باوا صاحب کے ہاتھ اُس کو لگے تھے تو ایسا خیال سخت نادانی ہے کیونکہ باوا صاحب اس چولہ سے پہلے ننگے تو نہیں پھرتے تھے کم سے کم اخیر زندگی تک شاید ہزاروں چولے پہنے ہوں گے پھر اگر باوا صاحب کی پوشش کے لحاظ سے یہ تعظیم ہوئی تو بجائے اس کے ان کا کوئی اور چولا محفوظ رکھنا چاہئے تھا ایسے چولہ کے رکھنے کی کیا ضرورت تھی جس سے لوگوں کو دھوکا لگتا تھا اور نیز قرآنی آیات کے لکھنے سے اُس کی پاکیزگی پر داغ بھی لگ گیا تھا اور اس کے کلمہ طیبہ سے جو اُس پر لکھا ہوا ہے صاف سمجھا جاتا ہے کہ باوا صاحب اُس کلمہ کے مصدق ہیں اور اُس پر ایمان لائے ہیں اگر وہ کلام خدا کا کلام نہ ہوتا تو چولہ اس کلام سے پلید ہو جاتا کیونکہ اگر قرآن شریف خدا تعالی کا کلام نہیں اور نعوذ باللہ کسی کاذب کا کلام ہے تو بلاشبہ وہ کپڑہ پاک نہ رہا ا نوٹ ۔ تمام سکھ صاحبان اس بات کے قائل ہیں کہ باوانا تک صاحب نے اپنے شعروں میں صاف کہہ دیا ہے کہ میں ہندو نہیں تو کیا اس فقرہ کے بجز اس کے کوئی اور بھی معنی ہیں کہ میں وید کو نہیں مانتا اور یہ اگر سچ ہے کہ میں مسلمان بھی نہیں اس کے یہ معنی ہیں کہ میں ظاہر ظاہر مسلمان نہیں کیونکہ دوسرے معنوں سے اُن کے کلام میں سخت تناقض پیدا ہوتا ہے۔ یہ بتلا نا چاہئے کہ ہندو مذہب چھوڑنے کے بعد جس کا انہیں خود اقرار ہے پھر کس الہامی کتاب کے پیرور ہے۔ منہ