سَت بچن — Page 159
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۵۹ ست بچن خدا تعالیٰ وہ مراد پوری کر دیتا۔ اور اب تک جو عرصہ چار سو برس کا گذرتا ہے اس چولہ سے ۳۹۶ مشکلات کے وقت برکتیں ڈھونڈتے اور بے اولادوں کے لئے کلام الہی سے لونگ وغیرہ کچھوا کر لوگوں کو دیتے ہیں اور بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی عجیب تاثیرات ہوئی ہیں غرض وہ برکتوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ اور بلاؤں کے دفعہ کرنے کا موجب سمجھا جاتا ہے اور صد ہاروپیہ کے شال اور ریشمی کپڑے اُس پر چڑھے ہوئے ہیں اور کئی ہزار روپیہ خرچ کر کے اُس کے لئے وہ مکان بھی بنایا گیا اور اُسی زمانہ میں ایک نہایت مبالغہ کے ساتھ انگد صاحب نے جو باوا صاحب کے جانشین تھے اُس چولے کی بہت سی برکتیں اپنی جنم ساکھی میں تحریر کیں اور اُس کو آسمانی چولہ تسلیم کیا ہے اور اس جنم ساکھی میں یہ بھی بیان ہے کہ وہ کلام جو چولے پر لکھا ہوا ہے خدا تعالیٰ کا کلام ہے یہی وجہ ہے کہ ایک دنیا اُس کی تعظیم کے لئے اُلٹ پڑی اور نہایت سرگرمی سے اُس کی تعظیم شروع ہوئی اس صورت میں کوئی یقین کر سکتا ہے کہ یہ سب اکرام اور اعزاز ایک ایسے کپڑے کے لئے تھا جس پر ایک مفتری اور دروغ گو کا نا پاک کلام لکھا ہوا ہے نہ خدا تعالیٰ کا اور یہ سب تعظیمیں اُن الفاظ کی تھیں جو نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ کسی جھوٹے کا اپنا کلام تھا جس میں ہر طرح کی برائیاں تھیں ۔ جس قدر برابر چارسو برس سے چولہ صاحب کی آیتوں کی تعظیم ہو رہی ہے کیا کبھی باوا صاحب کے ہاتھ سے یہ عزت وید کو بھی نصیب ہوئی کیا کوئی ایسا چولہ بھی سکھ صاحبوں کے پاس موجود ہے جس پر وید کی شرتیاں لکھی ہوئی ہوں اور اُس کی بھی یہی تعظیم ہوتی ہو جیسی کہ اس چولہ کی ہوتی ہے اور اُس پر بھی ہزار ہا روپیہ کے دوشالے چڑھتے ہوں اور اُس کی نسبت بھی کہا گیا ہو کہ یہ چولہ بھی آسمان سے ہی اُترا ہے اور یہ شرتیاں پر میشر نے اپنے ہاتھ سے لکھی ہیں ۔ اب یہ کیسا ظلم ہے کہ حق کو چھپایا جاتا ہے اور سراسر خلاف واقعہ کہا جاتا ہے کہ باوا صاحب ایک قاضی صاحب سے فتح کے طور پر یہ چولا لائے تھے حالانکہ وہ کتاب جو عرصہ چار سو برس سے گورو انگد نے جو جانشین باوا صاحب کا ہے لکھی ہے جو انگر کی جنم ساکھی کہلاتی ہے جس سے پہلے سکھ صاحبوں کے ہاتھ میں کوئی ایسی کتاب نہیں جو باوا صاحب کے سوانح کے متعلق ہو۔ اُس میں صاف لکھا ہے کہ قرآن