سَت بچن — Page 140
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۴۰ ست بیچن (۲۸) ترجمہ اپنے اشعار میں کیا ہے مگر چونکہ یہ رسالہ مختصر ہے اس لئے ہم انشاء اللہ ایک مبسوط رسالہ میں اس کا مفصل بیان کریں گے بالفعل جس ذکر کو ہم نے ابھی چھیڑا تھا وہ یہ ہے کہ باوا صاحب کے اشعار میں کیوں اختلاف پایا جاتا ہے اور کیونکر فیصلہ کریں کہ متناقض اشعار میں سے بعض اُن کی طرف سے اور بعض دوسروں کی طرف سے ہیں سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ اختلاف محض اس وجہ سے کا خالق ہے اس کی نسبت ایک سیکنڈ کیلئے بھی ہم گمان کر سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ اس گندے بقیہ حاشیہ اعتقاد کو پسند کرتا تھا۔ دوسری یہ کہ اواگون کے لئے شرط ہے کہ کسی کو بھی جاودانی مکتی نہ ہو اور ہمیشہ خواہ مخواہ مقدس لوگ بھی جونوں میں پھنسے رہیں یہاں تک کہ ایک ایسا شخص بھی جو مثلاً ایک زمانہ میں ایک بڑا اوتار ہو چکا ہے اس اعتقاد کے رو سے ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے زمانہ میں اواگون کے چکر میں آکر نجاست کا کیڑا بن جائے اور یہ اعتقاد با وانا تک صاحب کا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو جاودانی مکتی کے قائل ہیں اور اُن کا اعتقاد ایسا نہیں کہ پر میشر ایک شخص کو قرب کی عزت دے کر اور اسی پر اُس کی وفات کر کے پھر اُس کو ذلیل کرے۔ تیسری یہ کہ باوا صاحب اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کریم اور رحیم ہے اور تو یہ قبول کرنے والا اور گنہ بخشنے والا اور پروردگار ہے اور یہ سب باتیں اواگون کے عقیدہ کے مخالف ہیں اور باوا صاحب نے صرف ان کو اپنے گرنتھ میں ہی بیان نہیں کیا بلکہ چولا صاحب میں قرآنی آیات کے حوالہ سے بار بار لکھ دیا ہے کہ خدا غفور اور رحیم اور توراب اور اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ہم باوا صاحب کے گرنتھ میں سے یہ مقامات نہ ایک جگہ بلکہ صد ہا جگہ پیش کر سکتے ہیں اور تمام عظمند جانتے ہیں اور آریوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ جو شخص یہ تینوں اسلامی عقیدے رکھتا ہو وہ ہرگز اواگون کا قائل نہیں ہو سکتا مگر اس صورت میں کہ دیوانہ یا پرلے درجہ کا جاہل ہو یہ بھی یادر ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بی ادبی نہیں ہوگی کہ نعوذ باللہ اواگون کو بادا صاحب کا عقیدہ ٹھہرا دیا جاوے کیونکہ خدا کو خالق مان کر اور نجات کو ابدی سمجھ کر اور یہ اعتقاد رکھ کر کہ خدا گنہ