سَت بچن — Page 141
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۴۱ ست بچن ہے کہ جولوگ باوا صاحب سے بہت پیچھے آئے اُنہوں نے باوا صاحب کے قدم پر قدم نہیں (۲۹) رکھا اور اُنہوں نے مخلوق پرستی کی طرف دوبارہ رجوع کر دیا اور لوگوں کو دیویوں اور دیوتوں کی پرستش کے لئے رغبت دلائی اور نیز اسلام سے اُن کو تعصب ہو گیا اور دوسری طرف اُنہوں نے یہ دیکھا کہ باوا صاحب سراسر اسلام کی تائید کئے جاتے ہیں اور تمام باتیں اُن کی مسلمانوں بخش دیتا ہے پھر تاریخ کا قائل ہونا اسی شخص کا کام ہے جو پرلے درجہ کا جاہل ہو جو اپنے بقیہ حاشیہ کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اُس پر اطلاع نہ رکھے اس وقت گرنتھ ہمارے پاس موجود ہے اور نہ آج سے بلکہ تیس برس سے ہم بادا صاحب کے اصل عقائد کا پتہ لگانے کیلئے جہاں تک انسانی طاقت ہے خوض کر رہے ہیں اور ہماری کامل تحقیقات نے یہی فیصلہ دیا کہ باوا صاحب رحمتہ اللہ سچے مسلمان اور ایسے صادق تھے کہ اسلام کے انوار حاصل کرنے کے لئے ساری زندگی بسر کر دی ہر یک شخص اپنے منہ سے تو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں مگر سچ تو یہ ہے کہ باوا صاحب جیسا نمونہ دکھلانا مشکل ہے وہ اُن میں سے تھے جن کو خدا کا ہاتھ صاف کرتا رہا ہے خدا ان کو دور سے بھینچ لایا اور پھر دور تک آگے لے گیا۔ تین برس کا عرصہ ہوا کہ مجھے صاف صاف مکاشفات کے ذریعہ سے اُن کے حالات دریافت ہوئے تھے اگر میں جز ما کہوں تو شاید غلطی ہو مگر میں نے اُسی زمانہ میں ایک دفعہ عالم کشف میں اُن سے ملاقات کی یا کوئی ایسی صورتیں تھیں جو ملاقات سے مشابہ تھیں چونکہ زمانہ بہت گذر گیا ہے اس لئے اصل صورت اُس کشف کی میرے ذہن سے فرو ہوگئی ہے۔ غرض باوا صاحب تناسخ کے قائل ہر گز نہیں تھے اور کوئی اس بات سے دھوکا نہ کھاوے کہ اُن کے بعض اشعار میں ایسے اشارات پائے جاتے ہیں کیونکہ اگر فرض کے طور پر چند اشعار پائے جائیں جن کی ہم تاویل نہ کر سکیں تو پھر ہم اُن کے ان بہت سے اشعار کو جو قریباً اُن کا سارا گرنتھ ہے کہاں پھینک دیں جو تناسخ کے اصولوں سے مخالف ہیں اس لئے یا تو ہم اُن کی تاویل کریں گے اور یا الحاقی ماننا پڑے گا کیونکہ بزرگوں کے کلام میں تناقض روانہیں ہم نے بہت دیکھا ہے اور تحقیق سے