سَت بچن — Page 139
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۹ ست بیچن بقیه شریف کی آیتوں سے اپنے گرنتھ کو جمع کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن شریف کی بہت تلاوت کرتے تھے اکثر مساجد میں جاتے اور صلحاء وقت سے قرآن سنتے اور پھر قرآنی مضامین کو نظم میں لکھتے تا قوم کو ایک حکمت عملی کے ساتھ کلام الہی سے فائدہ پہنچا دیں۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ہم اس رسالہ میں دکھلا دیں کہ کس عمدہ طور سے باوا صاحب نے جابجا قرآنی آیات کا یعنی خدا ہی کے نور سے زمین و آسمان نکلے ہیں اور اُسی کے نور کے ساتھ قائم ہیں یہی مذہب حق ہے جس سے تو حید کامل ہوتی ہے اور خداشناسی کے وسائل میں خلل نہیں ہوتا۔ مگر جو شخص کہتا ہے کہ خدا حاشیہ خالق نہیں وہ گویا یہ کہتا ہے کہ خدا نہیں کیونکہ عام عقلیں خدا کو خدا کے کاموں سے پہچانتی ہیں پھر اگر خدا ارواح اور ذرات عالم کا خالق نہیں تو وسائل معرفت مفقود ہو جائیں گے یا ناقص ہوکر بے فائدہ ٹھہریں گے لیکن جس نے خدا کا خالق الارواح ہونا مان لیا وہ تاریخ کے مسئلہ کو کسی طرح مان نہیں سکتا کیونکہ جس خدا نے خالق ہونے کی حیثیت سے پہلی دنیا کو کمی بیشی کے ساتھ پیدا کیا یعنی کسی کو انسان بنا یا کسی کو گھوڑا وغیرہ اور اس وقت یعنی ابتدا میں گذشتہ اعمال کا وجود نہ تھا کیونکہ خود روحیں نہ تھیں تو پھر اعمال کہاں سے ہوتے تو اس صورت میں وہ خدا جو اپنے اختیار سے برابر مخلوقات میں کمی بیشی کرتا آیا اب کیونکر وہ اعمال کے سوا کمی بیشی نہیں کر سکتا لہذا جو لوگ تناسخ یعنی اواگون کو مانتے ہیں وہ جب تک تمام روحوں کو انادی اور غیر مخلوق قرار نہ دیں تب تک ممکن نہیں کہ تناسخ کا خیال بھی اُن کے دلوں میں آ سکے کیونکہ جبکہ اُن کا یہ مذہب ہے کہ ہر یک روح اور ہر یک جسم مخلوق ہے تو اس صورت میں اُنہوں نے مان لیا کہ کمی بیشی خدا کے ارادہ سے ہے نہ کہ کسی گذشتہ عمل کی وجہ سے تو تتاریخ جاتا رہا۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ تاریخ ماننے والے کسی طرح موحد نہیں ہو سکتے کیونکہ اُن کا تناسخ کا مسئلہ تبھی چلتا ہے جب ذرہ ذرہ کو قدیم اور غیر مخلوق اور انادی اور اپنے وجود کا آپ ہی خدا قرار دیدیں مگر کیا ایسا مذ ہب اُس شخص کی طرف منسوب کر سکتے ہیں جو تو حید کے دریا میں بڑے زور سے تیر رہا ہے اور کسی چیز کا وجود بجز وسیلہ قدرت کے خود بخود نہیں سمجھتا کیا وہ بزرگ جس کے چولے پر لکھا ہوا ہے کہ خدا تمام ارواح اور تمام موجودات