سناتن دھرم — Page 482
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۸۰ سناتن دھرم اس سے نزدیک ہو جائے کہ مورتی پوجا کو بھی اپنے دامن سے پھینک دے تو پھر آریوں کے مقابل پر تیری ہر میدان میں فتح ہے وہ ایک راہ سے تیرے مقابل پر آئیں گے اور سات راہ سے بھاگیں گے اور یہ نئی بات نہیں قدیم سے جوگیوں کا جو محبت کی آگ میں جل جاتے ہیں یہی مذہب ہے کہ بجز پر میشر اور سب بیچ ہے۔ تیسرا طریق سچے مذہب کے پر کھنے کا یہ ہے کہ وہ کہاں تک دنیا کے گند سے چھڑا تا اور خدا تک پہنچاتا اور اُس پاک ذات کو دکھلاتا ہے۔ سو آریہ مذہب اس مرتبہ سے بکلی محروم ہے۔ اس لئے ان کے حصہ میں بجز گالیوں اور بدزبانیوں اور توہین کے اور کچھ نہیں اور خود ان کا اصول نہ پر میشر کی نسبت پاک اور نہ قومی پاکیزگی کی نسبت پوتر ہے۔ اور نہ ان میں ان برکات کا کچھ حصہ ہے جو خدا رسیدہ لوگوں کو ملتی ہیں ۔ میں نے سُنا ہے کہ قادیان کے سناتن دھرم کے لوگ آریہ سماج کے ان دو اصولوں کے رد اور کھنڈن کے لئے جو وہ لوگ پر میشر کی کم طاقتی اور نیوگ کی نسبت رکھتے ہیں کوئی جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک مناسب ہے کہ دوسرے شہروں کے سناتن دھرم کے لوگ ان کی مدد کریں اور اگر ہم نے موجودہ حالات کے لحاظ سے مناسب سمجھا تو ہم بھی ان کی مدد سے حصہ لیں گے۔ والسلام خاکسار میبرزا غلام احمد قادیانی