سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 566

سناتن دھرم — Page 481

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۷۹ سناتن دھرم اور پھر دنیا بھی جو ہر ایک کے پیچھے جاسوس کی طرح لگی ہوئی ہے سمجھ جاتی ہے کہ ان دونوں کی باہم محبت ہے اور پھر وہ محبت اگر در حقیقت پاک محبت ہے اور کوئی خباثت نا پاک شہوت کی اُس کے اندر نہیں اُس مرتبہ تک ان دونوں وجودوں کو پہنچنا چاہتی ہے کہ ایک دوسرے کا دل با ہم کھینچا جاتا ہے بغیر دیکھنے کے بے آرامی رہتی ہے اور اُن کو کچھ انکل نہیں آتی کہ یہ کشش کہاں سے اور کیونکر پیدا ہوگئی آخر اُن کے پاک دل اس قدر ضرور حظ چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے کچھ کلام کیا کریں ایک نظر دیکھ لیں۔ کم سے کم ایک کلام کے لئے اُن کا دل تڑپتا ہے خواہ پیچھے سے مرجائیں۔ سو یہ تو مجازی عشق کا انجام ہے کہ کمال اس کا با ہم کلام ہے۔ پس لعنت ہے ایسے مذہب پر کہ جو پر میشر کے عاشق کو اس قدر بخرہ دینے کا بھی وعدہ نہیں کرتا کہ وہ اُس کا ہم کلام ہو جائے گا جیسا کہ ایک انسان کا عاشق اپنے معشوق کا ہم کلام ہو جاتا ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ تو ایسا عقیدہ ہی نہیں رکھتے ۔مگر ہم قبول نہیں کر سکتے کہ دید انسان کو اس مرتبہ ہم کلامی سے محروم رکھنا چاہتا ہے بلکہ یہ ان لوگوں کی اپنی غلطیاں ہیں وید کا قصور نہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مذہب وہی مذہب ہے جو خدا کو ملا وے اور ہم کلامی کا مزہ چکھاوے ورنہ ایک گوہر میں ہاتھ ڈالنا ہے جس میں بجز پلیدی کے اور کچھ نہیں۔ دوسرا طریق مذہب کے پر کھنے کا یہ ہے کہ سچا مذ ہب جیسا کہ خدا سے پیوند کراتا ہے۔ ایسا ہی قوم میں پاکیزگی پھیلاتا ہے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ آریہ سماج خدا سے پیوند نہیں کراتا بلکہ اُس پیدائشی پیوند کا بھی انکار کرتا ہے کہ جو بوجہ مخلوق ہونے کے ہر ایک روح کو اپنے پرمیشر سے ہے اور پاکیزگی کا نمونہ نیوگ کی تعلیم سے ظاہر ہے۔ شاباش اے سناتن دھرم کہ تو نے نہ تو ہر ایک ذرہ اور ہر ایک جیو کو اپنے وجود کا انہیں کو پر میشر سمجھا اور نہ تو نے نیوگ کے گند کو اپنے اعتقاد میں داخل کیا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تو اس قدر اور آگے قدم بڑھاوے جو خدا رسیدہ جو گیوں کی طرح ہو جائے جو پر میشر کی محبت سے پُر ہوتے ہیں اور ایسا