سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 477 of 566

سناتن دھرم — Page 477

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۷۵ سناتن دھرم ان کو وہ بہت مقدس جانتے ہیں اور اُن کی تعظیم کرتے ہیں اور اُن سے محبت رکھتے ہیں ملا۔ مگر میں نے آریہ سماج کے بعض رسالوں اور اخباروں میں دیکھا ہے کہ اُن کے بعض شوخ دیدہ لوگوں نے اوتاروں سے ٹھٹھا کیا اور سوء ادب کے لفظ کہے ہیں ۔ یہ اچھے آدمیوں کا کام نہیں ۔ سچ یہی ہے کہ بعض آر یہ صاحبوں کی شوخی حد سے بڑھ گئی ہے۔ یہی شوخی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ وہ بوٹی ہے جس کی جڑھ نہیں۔ روحانیت کی طرف یہ قوم متوجہ نہیں۔ دین صرف شوخیوں اور زبان کی چالاکیوں سے حاصل نہیں ہوتا۔ دین تو ایک موت چاہتا ہے جس کے بعد زندہ روح دی جاتی ہے۔ افسوس کہ آریہ صاحبوں کے بعض با رو طبع ممبروں نے جلسہ قادیاں میں بغیر اس کے کہ دین کے کوچہ میں کچھ بھی دخل ہو نقالوں ﴿۸﴾ کی طرح اسلام کو گالیاں دیں ۔ اگر اس میں ان کی نیت نیک ہوتی تو میری طرف لکھتے کہ ے نیک انسانوں سے محبت کرنا ایماندار کا فرض ہے اور سادہ سنگ کی ضروری شرط اس سے ادا ہوتی ہے اور سناتن دھرم والے صرف گذشتہ اوتاروں سے محبت نہیں رکھتے بلکہ اس کلجگ کے زمانہ میں وہ ایک آخری اوتار کے بھی منتظر ہیں جو زمین کو گناہ سے پاک کر دے گا۔ پس کیا تعجب ہے کہ کسی وقت خدا کے نشانوں کو دیکھ کر سعادت مند ان کے خدا کے اس آسمانی سلسلہ کو قبول کر لیں کیونکہ ان میں ضد اور ہٹ دھرمی بہت ہی کم ہے۔ منہ ان لوگوں نے نہ صرف اسلام کی نسبت بد زبانی کی بلکہ سناتن دھرم کے مقدس اصولوں کی بھی بہت سی نند یا کی اور سناتن دھرم کے غریب ہندوؤں کا دل دکھایا۔ عیسائی مذہب پر بھی اپنی عادت کے موافق ناجائز طور پر حملہ کیا۔ حملہ کرنے کے وقت حد سے گزر جانا یہی شیطانی عادت ہے ۔ یہ تو سچ ہے کہ حضرت عیسی خدا نہیں ہے مگر وہ خدا کا ایک پیارا نبی اور رسول تو تھا اور یہ تو سیچ ہے کہ راجہ رام چندر اور راجہ کرشن در حقیقت پر میشر نہیں تھے مگر اس میں کیا شک ہے کہ وہ دونوں بزرگ خدا رسیدہ اور اوتار تھے۔ خدا کی نورانی تجلبی اُن پر اتری تھی اس لئے وہ اوتار کہلائے۔ منہ