سناتن دھرم — Page 476
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۷۴ سناتن دھرم ہے۔ جب تک کوئی پاک نہ ہو جائے وہ اس کے بھیدوں تک نہیں پہنچے گا۔ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا اور اگر لوگ چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ میں دنیاداری کے کاموں میں نہیں پڑا اور دینی شغل میں ہمیشہ میری دلچسپی رہی ۔ میں نے اس کلام کو جس کا نام قرآن ہے نہایت درجہ تک پاک اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا پایا نہ وہ کسی انسان کو خدا بناتا اور نہ روحوں اور جسموں کو اس کی پیدائش سے باہر رکھ کر اس کی مذمت اور نندیا کرتا ہے اور وہ برکت جس کے لئے مذہب قبول کیا جاتا ہے اُس کو یہ کلام آخر انسان کے دل پر وارد کر دیتا ہے اور خدا کے فضل کا اس کو مالک بنا دیتا ہے۔ پس کیوں کر ہم روشنی پا کر پھر تاریکی میں آویں اور آنکھیں پا کر پھر اندھے بن جاویں۔ اور اس جگہ مجھے محض سچائی کی حمایت سے جو میرا فرض ہے اس قد ر اور کہنا پڑا ہے کہ سناتن دھرم والے ان کی چند باتوں کو الگ کر کے آریہ سماجیوں سے ہزار ہا درجہ بہتر ہیں وہ اپنے پر میشر کی اس طرح بے حرمتی نہیں کرتے کہ ہم انا دی اور غیر مخلوق ہونے کی وجہ سے اس کے برابر ہیں وہ نیوگ کے قابل شرم مسئلہ کو نہیں مانتے ۔ وہ اسلام پر بیہودہ اعتراض نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کی باتیں سب قوموں میں مشترک ہیں وہ اکثر ملنسار ہیں ان میں خطرناک شوخی اور تیزی نہیں ہے اور ان کے مقابل پر آریہ صاحبوں کو اس خیال سے بھی خودستائی نہیں کرنی چاہئے کہ ہم مورتی پوجا نہیں کرتے اوتاروں کو نہیں مانتے کیونکہ سناتن دھرم کے جوگی جو مذہب کے اعلیٰ مقام پر ہوتے ہیں وہ بھی مورتی پوجا سے دستکش ہوتے ہیں ۔ رہے اوتار سو اصل میں سنسکرت کی زبان میں نبیوں اور رسولوں کو اوتار کہتے ہیں ۔ جن میں پر میشر کا نور اُترتا ہے۔ سواصل مذہب سناتن دھرم کا یہ نہیں ہے کہ اوتار کی پوجا کرنی چاہئے ۔ ہاں