سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 478 of 566

سناتن دھرم — Page 478

روحانی خزائن جلد ۱۹ سناتن دھرم اسلام پر ہمارا فلاں اعتراض ہے۔ سو اگر چہ میں ایسی مجلسوں میں حاضر نہیں ہوسکتا تھا تا ہم میں اُن کے شبہات کا نرمی اور روشن تقریر سے جواب دے کر ان کی تسلی کر دیتا مگر اب وہ جیسے قادیان میں آئے تھے ویسے ہی واپس گئے اور شوخیوں اور بدزبانیوں کا انبارسر پر لے گئے ۔ مگر پھر بھی میں نے کتاب نسیم دعوت چند روز میں تالیف کر کے اُن کی دعوت کر دی اگر ان میں سے ایک بھی سمجھ جائے تو مجھے اجر ملے گا۔ خاتمہ میں رسالہ نسیم دعوت میں بیان کر چکا ہوں کہ ہر ایک مذہب تین طور سے پرکھا جاتا ہے۔ اوّل یہ کہ اُس نے خدا کے بارے میں کیا لکھا ہے۔ سو افسوس ہے کہ آریہ سماج کے اصول پر میشر کو تمام موجود چیزوں کا سرچشمہ نہیں ٹھہراتے بلکہ ہر ایک چیز کو پر میشر کی طرح قدیم اور انا دی اور خود بخود مانتے ہیں اور اعتقاد ر کھتے ہیں کہ نہ تو ان چیزوں کو پر میشر نے پیدا کیا اور نہ ان کی قوتوں کو ۔ پس ظاہر ہے کہ آریہ سماج کا پر میشر در حقیقت پر میشر نہیں ورنہ چاہئے تھا کہ سب چیزوں کا ابتدا اسی سے ہوتا ۔ یہ کیا ہوا کہ وہ پر میشر تو کہلا دے اور دوسری چیزیں خود بخود ہوں ۔ جو چیز اُس کی پیدائش نہیں وہ کیسے اُس کی ہوگئی۔ اس ناجائز قبضہ کی کوئی آریہ صاحب وجہ تو بتلا دے؟ جن چیزوں کو پر میشر نے پیدا ہی نہیں کیا اُن پر حکومت کرنا محض ظلم ہے۔ پس اگر آریہ سماج والے سناتن دھرم والوں کو مورتی پوجا کا الزام دیتے ہیں تو اُن کے اس اعتقاد کی رُو سے اُن پر الزام زیادہ ہے کیونکہ بُت پرست اپنے بچوں اور دیوتاؤں کو پر میشر اور خود بخود نہیں سمجھتے ۔ صرف یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اُن کے دیوتاؤں اور اوتاروں